دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مرغی کے انڈے کے اوپر بہت گندگی اور ناپاکی لگی ہوتی ہے۔ دکاندار اس کو ہاتھ لگا کر بہت سی چیزوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کیا اب وہ باقی چیزیں بھی ناپاک ہو گئیں ، اب جب وہ چیزیں گھر آئیں گی تو کیا ان کو پاک کر کے استعمال کرنا ہو گا؟ دوسرا ضمنی سوال یہ ہے کہ تھوڑا بہت پانی سے دھونے سےانڈوں کی گندگی مکمل صاف نہیں ہوتی۔ جب اس کو توڑتے ہیں تو تھوڑی بہت غلاظت اندر جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ کیا اس کو مکمل صاف کر کے(یعنی اس گندگی کا ایک نشان بھی باقی نہ رہے) اس کو کھانا چاہیے یا تھوڑا بہت گند جانے سے فرق نہیں پڑتا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال یہ ہے کہ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوجاتی ہے؟ کسی نے ایک صاحب کا ایک کلپ شیئر کیا ہے جو اس سے اختلاف کررہے ہیں۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا طحاوی میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے وتر کی ان نو سورتوں کی ان ہی ترتیبوں کے ساتھ کوئی روایت موجود ہے؟ اگر ہے تو براہ کرم ہمیں بھیج دیں۔ سورتیں یہ ہے:
پہلی رکعت میں: سورۃ القدر، سورۃ الزلزال، سورۃ التکاثر
دوسری رکعت: سورۃ العصر، سورۃ الکوثر، سورۃ النصر
تیسری رکعت: سورۃ الکافرون، سورۃ اللھب، سورۃالاخلاص
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
نماز کےلیے کی جانے والی نیت کے بارے میں ایک پوسٹ موصول ہوئی جس میں زاد المعاد کے حوالے سے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کا قول مذکور تھا، وہ فرماتے ہیں:’’نبی کریم ﷺ نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، ا س سے پہلے کچھ نہ کہتے، الفاظ سے نیت نہ کرتے، نہ یہ کہتے کہ میں الله کے لیے یہ نماز پڑھنے لگا ہوں، نہ یہ کہ منہ میرا کعبہ کی طرف، نہ یہ کہ میں چار رکعات پڑھنے لگا ہوں، نہ یہ کہتے کہ میں امامت کروارہا ہوں، نہ یہ کہ پیچھے اس امام کے، نہ یہ کہ یہ ادا نماز ہے یا قضا نماز ہے اور نہ یہ کہ یہ فرض کا وقت ہے۔ یہ ساری بدعات ہیں، نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں کوئی روایت نہیں، نہ صحیح سند کے ساتھ اور نہ ضعیف سند کے ساتھ، نہ مسند اور نہ ہی مرسل، بلکہ نہ ہی آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے، نہ تابعین نے اسے اچھا کہا ہے اور نہ ہی ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے اسے اچھا کہا ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیے کیا یہ بات درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک مصلىٰ کا امام ہوں، میرا مصلى یعنی نماز کی جگہ ایک فلیٹ کے نیچے گراؤنڈ فلور کے فلیٹ کے کمروں کی دیواریں گراکر بنایا گیا ہے جس میں امام وموذن متعین ہے اور مصلى کاکچھ حصہ فلیٹ کےاحاطہ سےباہر بھی ہے اور امام کا مصلى بھی کچھ باہر کےاحاطے میں ہے اور ایک بات یہ واضح کردوں کہ ہمارے ہاں تقریبا 120 افراد کی گنجائش ہےاور فلیٹ کےقرب وجوار میں بڑی بڑی کافی ساری مساجد بھی ہیں جہاں بھرپور انداز میں جمعہ اداہوتا ہے، ہم نے مجبوراً لاک ڈاؤن کے دوران اس مصلی میں کچھ عرصہ جمعہ ادا کیا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان تمام تفصیلات کے ساتھ کیا ہم اس مصلى میں مستقل جمعہ شروع کرواسکتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
نماز جنازہ میں جو ثناء پڑھی جاتی ہے «سبحانک اللهم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک وجل ثناءک ولا اله غیرک» اس میں «وجل ثناءک» احادیث سے ثابت ہے یا نہیں اگر ہے تو کوئی حوالہ مستند دیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ نماز جنازہ میں سورہ الفاتحہ بطور قرات کے پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
صلح حدیبیہ کے موقع پر 1400 صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کےساتھ تھے،جب وہ عمرہ سے روک دیے گئے تو انھوں نے دم کا جانور وہیں قربان کیا جہاں وہ روک لیے گئے؟ دوسرے سال جب وہ دوبارہ عمرہ کے لیے آئے تو صحابہ کرام کی تعداد 1400 سے کم تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے عمرہ نہ ہو سکے تو کیا واقعی عمرہ کی قضا واجب ہوگی؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں نے کچھ رقم ایک فارما کمپنی میں انویسٹ کی ہے، جس کا ماہانہ بنیاد پر منافع ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو رقم انویسٹ کی ہے، وہ میری ملکیت میں مانی جائے گی؟ اور کیا اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ اور ہاں تو کس حساب سے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جماعت کی نماز میں اگر ہر فرد چھ فٹ کے فاصلے سے کھڑا ہو تو اسے لغت کے اعتبار سے جماعت کیسے کہیں گے؟ اور چھ فٹ کے فاصلے سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا لغت کے اعتبار سے بدعت ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیے کہ علماء کرام نے حکومت کے خوف سے یہ کیوں فتوی دیا کہ چھ فٹ کے فاصلے سے جماعت کی نماز پڑھی جائے، اسے بدعت کیوں نہیں کہا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مندرجہ ذیل حدیث کی اِسنادی حیثیت کی بابت دریافت کرنا ہےکہ آیا یہ حدیث مستند ہے یا نہیں؟
اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا: جوبندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے (جو دس پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہےاس وقفہ میں) اَللهُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فیِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔ اس کو اللہ چار انعام دیں گے۔
(۱)اللہ تعالٰی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دے گا جس سے موت آ جائے،یعنی خطرناک بیماری سے محفوظ رہے گا۔ (۲)اللہ تعالٰی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائے گا۔ (۳)اللہ تعالٰی اس کو ظالموں سے دور رکھے گا۔ (۴)اللہ تعالٰی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائے گا۔