Menu

Fatawaa

نماز جنازہ میں ثناء اور سورۃ الفاتحہ

Jul 15 2020

 نماز جنازہ میں جو ثناء پڑھی جاتی ہے «سبحانک اللهم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک وجل ثناءک ولا اله غیرک» اس میں «وجل ثناءک» احادیث سے ثابت ہے یا نہیں اگر ہے تو کوئی حوالہ مستند دیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ نماز جنازہ میں سورہ الفاتحہ بطور قرات کے پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 
الجواب باسم ملهم الصواب
احادیث مشہورہ میں جو ثناء کے الفاظ منقول ہیں ان میںوجل ثناؤک کے الفاظ موجود نہیں اس لئے منقول دعا پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے، خصوصا فرائض کی ثناء میں ’’وجل ثناؤک‘‘ کے جملے کے اضافے سے احتراز کرنا چاہیے۔ البتہ نماز جنازہ چونکہ اصلاً دعا ہے، اس لئے اس کی ثناء میں وجل ثناؤک کا اضافہ جائز ہے ۔
نماز جنازہ میں قرأت قرآنی نہیں ہے، اس لئے جنازہ میں قرأت کی نیت سے سورہ فاتحہ پڑھنا مکروہ ہے، لیکن سورہ فاتحہ کا مضمون چونکہ دعائیہ ہے تو دعا کی نیت سے پڑھنے کی اجازت ہے۔
(وقرأ) كما كبر (سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة (مقتصرا عليه) فلا يضم: وجهت وجهي إلا في النافلة، ولا تفسد بقوله - {وأنا أول المسلمين} - (قوله تاركا إلخ) هو ظاهر الرواية بدائع لأنه لم ينقل في المشاهير كافي فالأولى تركه في كل صلاة محافظة على المروي بلا زيادة وإن كان ثناء على الله تعالى بحر وحلية. وفيه إشارة إلى أن قوله في الهداية لا يأتي به في الفرائض لا مفهوم له، لكن قال صاحب الهداية في كتابه مختارات النوازل: وقوله " وجل ثناؤك " لم ينقل في الفرائض في المشاهير، وما روي فيه فهو في صلاة التهجد اهـ (قوله إلا في الجنازة) ذكره في شرح المنية الصغير ولم يعزه إلى أحد، ولم أره لغيره سوى ما قدمناه عن الهداية ومختارات النوازل. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار، 1/ 488)
(ولا قراءة ولا تشهد فيها) وعين الشافعي الفاتحة في الأولى. وعندنا تجوز بنية الدعاء، وتكره بنية القراءة لعدم ثبوتها فيها عنه - عليه الصلاة والسلام – (الدر المختار، كتاب الصلاة)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4131