Menu

Fatawaa

All Posts Term: تاریخ اسلام
12 post(s) found

بعض صحابہ کرام کے اجساد اٹھا لیے جانے کی تحقیق

کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہما کے اجساد مبارکہ آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے؟ مستند روایات کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک واقعے کی تحقیق

Aug 22 2020
113
0
درج ذیل واقعے کی تصدیق درکار ہے:
’’حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔ ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرفا سے اظہار فرمایا۔یرفا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرفا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کے لئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟ چھوڑو یرفا، اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔ غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے،تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر ان کی وہیں ہوجائے گی۔ غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑا تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا۔ عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟ وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نہ لیں۔ غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ، پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے) فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔ مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرفا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے:’’اوہ یار یرفا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے، اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں، کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ، میں تو دعائیں مانگتا ہوں۔ اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔ میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا۔ اے اللہ میں جانور تھا، بےزبان تھا، 16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کے لیے، تو پھر یرفا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟‘‘ یرفا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“

چند بہادر صحابہ کرام کے حالات

حضرت خالد بن ولید کی شجاعت بہت معروف ہے. تاہم انہی کی طرح بہادری دیگر صحابہ کے بارے میں بھی سنی ہے۔ ان کی تحقیق مطلوب ہے کہ آیا وہ محض روایات ہیں یا حقیقت سے کوئی تعلق بھی ہے؟ مثلا تین نام ہیں: ضرار بن الازور، خولہ بنت الازور اور قعقاع بن عمرو التمیمی۔

عمرہ کی قضا

 صلح حدیبیہ کے موقع پر 1400 صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کےساتھ تھے،جب وہ عمرہ سے روک دیے گئے تو انھوں نے دم کا جانور وہیں قربان کیا جہاں وہ روک لیے گئے؟ دوسرے سال جب وہ دوبارہ عمرہ کے لیے آئے تو صحابہ کرام کی تعداد 1400 سے کم تھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے عمرہ نہ ہو سکے تو کیا واقعی عمرہ کی قضا واجب ہوگی؟

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے شخص کا حکم

حضرت آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ میں کہیں پڑھ رہا تھا ایک حدیث جس کا مفہوم کچھ ایسا ہے کہ کسی صحابی کو برا نہ کہو۔ کچھ مسلمان بھائی ہمارے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ صرف اسی لیے مشہور ہیں کیونکہ صحابی تھے، ورنہ ان کی دین کے لیے کوئی خدمات نہیں ہیں ۔ صحابہ کے حوالے سے ایسے خیالات ہوں تو احادیث میں کیا حکم ہے؟ 

علماء اہلسنت اور تذکرہ اہل بیت

 کچھ دوستوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ سنی علماء اہل بیت کا تذکرہ زیادہ نہیں کرتے اور نہ لکھتے ہیں، غیر اہل بیت صحابہ کا تذکرہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں اہل بیت کی فضیلت پر مشتمل چند کتابوں کے نام بتادیجیے جو ان دوستوں کو بتائی جاسکیں۔

وفاتِ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ

سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں:
۱۔ اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں؟
۲۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرناکہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینااس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت حسن کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت حسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا، اس بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کیا فرماتے ہیں؟
۳۔حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیے۔
۴۔ حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے۔
سنن ابی داود کی روایت یہ ہے:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)

چند مشہور واقعات کی تحقیق

 سوال یہ ہے کہ جو ہمارے یہاں مشہور واقعات ہیں جن کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جاتی ہے، جیسے ایک ضعیفہ کا واقعہ ہےجو کچرا پھینکتی تھی اور ایک ضعیفہ جو مکہ چھوڑ کر جارہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈر کر، کہیں وہ بھی اسلام قبول نہ کرلے اور اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سامنے تشریف لے آئے اور اس کا سامان بھی منزل تک پہنچایا بغیر کسی اجرت کے اور وہ یہ جان کر یہ خوبصورت چہرہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے تو وہ ایمان لے آئی۔ اور ایک یہ کہ عیدکے دن کسی مسکین اور یتیم کو گھر لے آتے اور حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کا لباس اسے پہناتے۔ کیا ان واقعات کی کوئی حقیقت ہے؟ کیا یہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں؟ یا ضعیف احادیث ہیں؟ برائے مہربانی جواب دیجیےگا۔