دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
زکوۃ، صدقات، فطرہ اور قربانی کی کھالیں قریبی مستحقین کو دینا زیادہ افضل ہے یا دور کے دینی اداروں کو جیسے دارالعلوم، بنوری ٹاؤن وغیرہ؟ ہم دور والوں کو دیں یا پھر قریبی مستحق لوگوں اور مستحق اداروں کو دیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
خلیجی ممالک میں کورونا صورتحال کی وجہ سے حکومت نے مسجد بند کردی تو عید الفطر کی نماز گھر میں پڑھی جاسکتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا نابالغ، نماز کے لیے اذان دے سکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو اہل محلہ یا امام مسجد کے اذان کے معاملے میں نابالغ بچوں پر انحصار کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے علاقے میں عباسی خاندان کی اکثریت ہے۔ جن کا شجرہ نسب محفوظ و مکتوب چلا آتا ہے۔ بعض علمائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ چوں کہ عباسی خاندان بنو ہاشم میں سے ہے اس لیے ان پر زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جا سکتی ۔یہ ایک نئی بات تھی، چنانچہ لوگوں نے مختلف اشکالات ظاہر کیے،بعض نے کہا کہ مسئلہ بیان کرنے والے غیر عباسی اور مدارس کے علماء ہیں اس لیے تعصب اور زکوٰۃ کی رقم مدارس میں لے جانے کے لیے وہ اس بات کو اچھال رہے ہیں حالانکہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔یہ کوئی دینی معاملہ نہیں بلکہ انتظامی مسئلہ ہے کہ یہ ممانعت اس دور میں تھی جب بنو ہاشم حکمران تھے، اگر اس وقت انہیں زکوٰۃ کھانے کی اجازت دی جاتی تو وہ سارا مال آپس میں ہی بانٹ لیتے ۔اب جبکہ ان کی حکومت چلی گئی تو یہ حکم بھی چلا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس دور میں بنو ہاشم کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر تھے جب وظائف ختم ہو گئے تو ان کے حق میں حرمت زکوٰۃ بھی ختم ہو گئی ۔اگر ان کے لیے زکوٰۃ کے جواز کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو بنو ہاشم کے غرباء کے حقوق کا ضیاع لازم آئے گا۔بعض کہتے ہیں جس طرح عام لوگوں کے لیے صدقات اہل خاندان کو دینا افضل ہے اس طرح بنو ہاشم کے لیے بھی افضل یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں کو زکوٰۃ ادا کرے اور دوہرا اجر پائے، یہ حضرات مزید کہتے ہیں کہ بنو ہاشم پہ زکوٰۃ ہے تو حرام لیکن دوسروں کی حرام ہے اور آپس میں ایک دوسرے کی زکوٰۃ ان پر حرام نہیں ہے۔ یہ لوگ الفاظ حدیث ’’تؤخذ من اغنياءهم فترد في فقراءهم‘‘ سے بھی دلیل پکڑتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بنو ہاشم کے حق میں زکوٰۃ کے جواز کا فتویٰ دیا تھا، بعد میں لوگوں نے اسے بدل دیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ بنو ہاشم پر صرف زکوٰۃ ہی حرام ہے یا مذکورہ حرمت فطرانہ ، عشر ، فدیہ رمضان ، یا کفارہ کو بھی شامل ہے ؟عرض ہے کہ ان سوالات و اشکالات کا مفصل ومدلل جواب عطا فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مجھے زکوٰۃ کا مسئلہ پوچھنا ہے۔ میرے پاس چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور تقریباً تین لاکھ روپے ہیں جو استعمال نہیں ہوۓ اور ان پر سال گزرگیا ہے۔تو مجھے کتنی رقم زکوٰۃ کے لیے نکالنی ہوگی؟ اس کی وضاحت فرمادیجئے۔ اس سے قبل میں نے دس ہزار روپے زکوٰۃ میں دیے تھے جبکہ اس وقت میرے پاس سوا چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور ایک لاکھ روپے تھے۔ اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ میں نے رقم ٹھیک ادا کی یا مزید ادا کرنی تھی؟ جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سائل ایک ادارے میں ملازمت کرتاہے، ادارہ کی وساطت سے زکوۃ کے متعلق درج ذیل سوال کے بارے میں تحریری فتوی درکار ہے۔ ادارہ ہذا نے اپنے غریب اور مستحق ملازمین کی امداد کے لیے ایک زکوۃ فنڈ قائم کر رکھاہےاور اس فنڈ میں ڈالی گئی رقوم کو ایک پرائیویٹ بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ ہر سال ادارہ کے صاحب نصاب ملازمین اپنی زکوۃ کا کچھ حصہ اس فنڈ میں جمع کرواتے ہیں جس میں سے ماہانہ کی بنیاد پر مستحق افراد کو زکوۃ کی ایک مقرر کردہ رقم فراہم کی جاتی ہے۔ اس زکوۃ فنڈ میں لوگ ہر سال کچھ رقوم جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے کچھ رقوم مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس طرح اس فنڈ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ رقم موجود رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال میں جمع کروائی گئی زکوۃ کی رقم کو اسی سال مستحق افراد میں تقسیم کرنا لازم ہے یا اس کی تقسیم کے عمل کو اگلے سالوں تک پھیلا یا جاسکتا ہے؟ براہ کرم اس بارے میں تحریری فتوی عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل حدیث سنن ابوداؤد کے حوالے سے موصول ہوئی ہے اس کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ صحیح ہے:
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کرکے فرض نماز کے لیے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے اور جو صلاۃ الضحی کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کےثواب کی طرح ہے اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے پاس ایک رہائشی پلاٹ ہے، کیا وہ بھی زکوۃ کے نصاب میں شامل ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا خواتین رمضان میں روزے کی حالت میں غیر ضروری بالوں کی صفائی کرسکتی ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا دلہن کو خوبصورتی کےلیے نقلی بال، نقلی پلکیں، نقلی ناخن وغیرہ کچھ دیر کےلیے مثلا آٹھ گھنٹے کےلیے لگاسکتے ہیں جو انسانی بال سے بنے ہوئے نہ ہوں؟ مزید یہ کہ دلہن کے ساتھ ساتھ جو خواتین کسی فنکشن کےلیے نقلی بال، ناخن، پلکیں (جو انسانی بال سے نہ بنے ہوں) لگواتی ہیں کیا خوبصورتی کےلیے ان کا لگانا جائز ہے؟