Menu

Fatawaa

صلاۃ الضحیٰ کی حدیث

Jun 26 2020

درج ذیل حدیث  سنن ابوداؤد کے حوالے سے موصول ہوئی ہے اس کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ صحیح ہے:
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے گھر سے وضو کرکے فرض نماز کے لیے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کے ثواب کی طرح ہے اور جو صلاۃ الضحی کے لیے نکلے اور اسی کی خاطر تکلیف برداشت کرتا ہو تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کےثواب کی طرح ہے اور ایک نماز سے لے کر دوسری نماز کے بیچ میں کوئی لغو کام نہ ہو تو وہ علیین میں لکھی جاتی ہے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
 یہ روایت سنن ابی داود میں ہے: عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ». (سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل المشي)
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ یعنی معتمد ہیں البتہ ایک راوی قاسم بن عبد الرحمن پر امام احمد بن حنبلؒ نے کچھ کلام فرمایا ہے۔جبکہ حافظ ابن حجرؒ اور دیگر ائمہ یعنی یحیی بن معین، امام اسحاق اور امام ترمذی رحمہم اللہ نے انھیں ثقہ فرمایا ہے، اس لیے یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے۔ اس حدیث کے دوسرے حصے کی تشریح کرتے ہوئے علامہ خلیل احمد سہارنپوری صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ اس میں صلاۃ الضحی کے لیے نکل کر مسجد میں جانے کا ذکر نہیں، کیونکہ نوافل تو مسجد کی بجائے اپنے گھر ہی میں پڑھنا افضل ہے،  بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ جو شخص اپنے گھر، دکان یا بازار وغیرہ کے دنیوی کام کاج چھوڑ کر صلاۃ الضحی کے لیے نکل کھڑا ہو تو اسے عمرہ کرنے والے شخص کی طرح ثواب ملے گا۔
(حدثنا أبو توبة) ربيع بن نافع، (نا الهيثم بن حميد، عن يحيى بن الحارث) الذماري بكسر المعجمة وتخفيف الميم، أبو عمرو الشامي القارئ، ثقة، مات سنة 145 هـ، (عن القاسم) بن عبد الرحمن (أبي عبد الرحمن) الدمشقي، مولى آل أبي بن حرب، الأموي، صاحب أبي أمامة، عن ابن معين: ليس في الدنيا قاسم بن عبد الرحمن شامي غير هذا، قال البخاري: سمع عليًا وابن مسعود وأبا أمامة، وقيل: لم يسمع من أحد من الصحابة إلَّا من أبي أمامة، صدوق، يرسل كثيرًا. . . وقال ابن حجر: ومن هذا أخذ أئمتنا قولهم: السنَّة في الضحى فعلها في المسجد، ويكون من جملة المستثنيات من خبر: "أفضل صلاة الرجل في بيته إلَّا المكتوبة"، انتهى، وفيه أنه على فرض صحة حديث المتن يدل على جوازه لا على أفضليته، أو يحمل على من لا يكون له مسكن، أو في مسكنه شاغل ونحوه على أنه ليس للمسجد ذكر في الحديث أصلًا، فالمعنى: من خرج من بيته أو سوقه أو شغله متوجهًا إلى صلاة الضحى تاركًا أشغال الدنيا. (بذل المجهود في حل سنن أبي داود، كتاب الصلاة)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4060