Jun
26
2020
میرے پاس ایک رہائشی پلاٹ ہے، کیا وہ بھی زکوۃ کے نصاب میں شامل ہوگا؟
الجواب باسم ملهم الصواب
مذکوہ پلاٹ اگر رہائشی استعمال کے لئے خریدا اور خریدتے وقت اس کو بیچ کر نفع کمانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا تو اس پلاٹ کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ.
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4450