دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں نے کچھ رقم ایک فارما کمپنی میں انویسٹ کی ہے، جس کا ماہانہ بنیاد پر منافع ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو رقم انویسٹ کی ہے، وہ میری ملکیت میں مانی جائے گی؟ اور کیا اس پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ اور ہاں تو کس حساب سے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
زکوۃ، صدقات، فطرہ اور قربانی کی کھالیں قریبی مستحقین کو دینا زیادہ افضل ہے یا دور کے دینی اداروں کو جیسے دارالعلوم، بنوری ٹاؤن وغیرہ؟ ہم دور والوں کو دیں یا پھر قریبی مستحق لوگوں اور مستحق اداروں کو دیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے علاقے میں عباسی خاندان کی اکثریت ہے۔ جن کا شجرہ نسب محفوظ و مکتوب چلا آتا ہے۔ بعض علمائے کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ چوں کہ عباسی خاندان بنو ہاشم میں سے ہے اس لیے ان پر زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جا سکتی ۔یہ ایک نئی بات تھی، چنانچہ لوگوں نے مختلف اشکالات ظاہر کیے،بعض نے کہا کہ مسئلہ بیان کرنے والے غیر عباسی اور مدارس کے علماء ہیں اس لیے تعصب اور زکوٰۃ کی رقم مدارس میں لے جانے کے لیے وہ اس بات کو اچھال رہے ہیں حالانکہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔یہ کوئی دینی معاملہ نہیں بلکہ انتظامی مسئلہ ہے کہ یہ ممانعت اس دور میں تھی جب بنو ہاشم حکمران تھے، اگر اس وقت انہیں زکوٰۃ کھانے کی اجازت دی جاتی تو وہ سارا مال آپس میں ہی بانٹ لیتے ۔اب جبکہ ان کی حکومت چلی گئی تو یہ حکم بھی چلا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس دور میں بنو ہاشم کے لیے بیت المال سے وظائف مقرر تھے جب وظائف ختم ہو گئے تو ان کے حق میں حرمت زکوٰۃ بھی ختم ہو گئی ۔اگر ان کے لیے زکوٰۃ کے جواز کی رائے پر عمل نہ کیا جائے تو بنو ہاشم کے غرباء کے حقوق کا ضیاع لازم آئے گا۔بعض کہتے ہیں جس طرح عام لوگوں کے لیے صدقات اہل خاندان کو دینا افضل ہے اس طرح بنو ہاشم کے لیے بھی افضل یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں کو زکوٰۃ ادا کرے اور دوہرا اجر پائے، یہ حضرات مزید کہتے ہیں کہ بنو ہاشم پہ زکوٰۃ ہے تو حرام لیکن دوسروں کی حرام ہے اور آپس میں ایک دوسرے کی زکوٰۃ ان پر حرام نہیں ہے۔ یہ لوگ الفاظ حدیث ’’تؤخذ من اغنياءهم فترد في فقراءهم‘‘ سے بھی دلیل پکڑتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بنو ہاشم کے حق میں زکوٰۃ کے جواز کا فتویٰ دیا تھا، بعد میں لوگوں نے اسے بدل دیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ بنو ہاشم پر صرف زکوٰۃ ہی حرام ہے یا مذکورہ حرمت فطرانہ ، عشر ، فدیہ رمضان ، یا کفارہ کو بھی شامل ہے ؟عرض ہے کہ ان سوالات و اشکالات کا مفصل ومدلل جواب عطا فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مجھے زکوٰۃ کا مسئلہ پوچھنا ہے۔ میرے پاس چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور تقریباً تین لاکھ روپے ہیں جو استعمال نہیں ہوۓ اور ان پر سال گزرگیا ہے۔تو مجھے کتنی رقم زکوٰۃ کے لیے نکالنی ہوگی؟ اس کی وضاحت فرمادیجئے۔ اس سے قبل میں نے دس ہزار روپے زکوٰۃ میں دیے تھے جبکہ اس وقت میرے پاس سوا چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور ایک لاکھ روپے تھے۔ اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ میں نے رقم ٹھیک ادا کی یا مزید ادا کرنی تھی؟ جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سائل ایک ادارے میں ملازمت کرتاہے، ادارہ کی وساطت سے زکوۃ کے متعلق درج ذیل سوال کے بارے میں تحریری فتوی درکار ہے۔ ادارہ ہذا نے اپنے غریب اور مستحق ملازمین کی امداد کے لیے ایک زکوۃ فنڈ قائم کر رکھاہےاور اس فنڈ میں ڈالی گئی رقوم کو ایک پرائیویٹ بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ ہر سال ادارہ کے صاحب نصاب ملازمین اپنی زکوۃ کا کچھ حصہ اس فنڈ میں جمع کرواتے ہیں جس میں سے ماہانہ کی بنیاد پر مستحق افراد کو زکوۃ کی ایک مقرر کردہ رقم فراہم کی جاتی ہے۔ اس زکوۃ فنڈ میں لوگ ہر سال کچھ رقوم جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے کچھ رقوم مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس طرح اس فنڈ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ رقم موجود رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال میں جمع کروائی گئی زکوۃ کی رقم کو اسی سال مستحق افراد میں تقسیم کرنا لازم ہے یا اس کی تقسیم کے عمل کو اگلے سالوں تک پھیلا یا جاسکتا ہے؟ براہ کرم اس بارے میں تحریری فتوی عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے پاس ایک رہائشی پلاٹ ہے، کیا وہ بھی زکوۃ کے نصاب میں شامل ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک صاحب کا بھینسوں کا باڑا ہے، وہ ان کا دودھ نکالتے ہیں، کیا ان پر زکوۃ ہوگی؟ اسی طرح کچھ جانور آگے دیے ہوتے ہیں جن کے چارے اور جگہ کا خرچہ یہ دیتے ہیں یا کچھ جانور گابھن کرنے کےلیے دیے ہوتے ہیں تو کیا ان پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ادائیگی زکوٰۃ کے حوالے رہنمائی درکار ہے، میرے پاس دو پلاٹس ہیں، پہلا مئی ۲۰۱۸ء میں تیس لاکھ میں خریدا تھا، اس میں نیت یہ تھی کہ یا تو اسے بیچ کر دوسرے خالی پلاٹ کو اپنی رہائش کے لیے تعمیر کریں گے یا اسے چھوٹے بھائی کو ان کی رہائش کے لیے دے دیں گے، ان شاء اللہ۔ دوسرا پلاٹ اگست ۲۰۱۹ء میں اسی لاکھ میں خریدا تھا، جس میں نیت اسے تعمیر کرکے رہائش اختیار کرنا ہے، ان شاء اللہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں پلاٹس زکوٰۃ کے حساب کتاب میں شامل کیے جائیں گے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
عرض یہ ہے کہ ہماری برادری مل کر ایک ادارہ بنانا چاہتے ہیں، جو زکوٰۃ کی رقم سے اپنی برادری کے لوگوں کی مدد کرسکے۔ اس ادارےمیں زکوٰۃ دینے والے لوگ بھی چوڑی برادری کے لوگ ہیں اور زکوٰۃ لینے والے بھی چوڑی برادری کے لوگ ہوں گے۔اگر اضافی رقم ہوگی تو باہر کے لوگوں میں بھی دے دیں گے، مگر دیں گے انہی کو جن کو ہم بذات خود جانتے ہوں گے۔زکوٰۃ جن لوگوں کو دی جاسکتی ہے، اس کی بھی وضاحت فرمادیجیے۔ اور طریقہ کار بھی واضح کردیجیے۔ نیز کس کس مد میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، اس پر بھی رہنمائی فرمادیجیے۔جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کے مطابق ان کے پاس تین تولہ سونا ہے، کرائے کا گھر ہے، جس کا کرایہ چودہ ہزار ہے۔ ان کا اپنا ایک گھر ہے جس کی مالیت تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ روپے ہے، یہ کرائے پر دیا ہوا ہے، جسے سے چھ ہزار روپے کرایہ آتا ہے۔ ان کے پاس دو لاکھ روپے سیونگز ہیں، جو ابھی دو ماہ قبل کہیں انویسٹ کیے ہیں، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اس سے کوئی نفع نہیں ملا۔ اس کے علاوہ ان کے اوپر دو لاکھ نوے ہزار روپے قرض ہے، جو انہوں نے چکانا ہے۔ تقریباً دو سال قبل ایک پلاٹ کی بکنگ کروائی ہے، وہاں پچاس ہزار روپے جمع ہیں، لیکن اس میں سے بیس پچیس ہزار ایسے ہوں گے جن پر ایک سال گزرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک جگہ پچاس ہزار کی بی سی ڈالی ہوئی ہے، جس کے پچیس ہزار ادا کرچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ لاگو ہوگی یا نہیں؟ اور ہوگی تو کس طرح حساب کتاب کیا جائے گا؟