دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا سوال یہ ہے كہ ایک سىدہ خاتون ہىں، لیکن ان کے شوہر سید نہیں، وہ بہت زیادہ ضرورت مند بھى ہے اوران کی ملازمت وغىرہ بھی نہیں ہے، توکیااىسے شخص كو زكوة دى جاسكتى ہےجس كى بىوى سىدہ ہو اور وہ خود سىد نہ ہو؟ جزاك اللہ خىرا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
عرض ہے کہ والد صاحب سکول ٹیچرتھے جن کی سیلری یونائیٹڈ بینک سیونگ اکاؤنٹ میں آتی رہی اور وہ ہر ماہ وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ پنشن آگئی جبکہ ان کو سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹ کیا ہوتا ہے اس بارے میں کچھ علم نہ تھا۔ جب معلوم ہوا تو پنشن کو آئے ہوئے تقریباً دوسال ہو گئے تھے جو تقریباً 15سے20لاکھ تھی تو والد صاحب نے رقم کو کرنٹ اکاؤنٹ میں منتقل کروا دیا۔ ان دوسال کی سٹیٹمنٹ کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ اضافہ ہوگیا تھا اور زکوۃ بھی کاٹی گئی جو تقریباً 50ہزار تھی۔ اب کیا ہماری زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ اس اضافہ کا کیا کریں؟ اور 15سے 20سال سیونگ اکاؤنٹ میں سیلری آتی رہی جو والد صاحب وصول کرلیتے تھے۔ اُس کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس کی عمر پچاس سال سے اوپر ہو اور وہ کمانے کے لائق نہیں، اس کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہیں، اس کے نام ایک رہائش کی جگہ ہے تقریباً دس مرلہ وہ بھی سرکاری زمین ہے، آیا اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جس بچے كى عمر چودہ سال سے كچھ ماہ زىادہ ہو اور وہ پڑھ بھى رہا ہو، لىكن اس كے ماں باپ كى حىثىت كے بارے مىں معلوم نہ ہو كہ ان كے پاس كوئى زىور وغىرہ ہے ىا نہىں، تو اىسے بچے كو زکوٰۃ دى جاسكتى ہے؟ اور اگر دى جاسكتى ہے تو كس عمر مىں دى جائے، تاكہ وہ اپنے تعلىمى اخراجات پورے كرسكے؟ اس مسئلےمىں رہنمائى فرمائىں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں نے دو سال پہلے عید الاضحی کے جانوروں کا کاروبار شروع کیا تھا، جو تا حال جاری ہے۔ اس کاروبار کےلیے میں نے اپنے ماموں سے انویسٹمنٹ لی تھی، ماموں شراکت دار نہیں ہیں، بس بطور قرض انہوں نے دےدیا تھا۔ لیکن اب وہ واپس نہیں لے رہے، ان کا کہنا ہے کہ جب ضرورت ہوگی تو میں لے لوں گا۔ ساتھ ساتھ میری ایک جاب بھی چل رہی ہےاور میں قرض واپس کرنے کے قابل بھی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ مجھ پر زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا چھوٹا بھائی جو بالغ ہے اور یونیورسٹی میں پڑھائی کررہا ہے، اس کے پاس اپنی کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے اگرچہ وہ نوکری تلاش کررہاہے۔ اس کی پڑھائی کا اور کھانے پینے کا خرچہ ماں باپ اٹھاتے ہیں، لیکن والدین کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ وہ اس کے ذاتی خرچوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ذاتی خرچے جیسے سواری، موبائل بیلنس، کپڑے، جوتے اور اسی طرح کے ذاتی خرچے۔ میں اس کا بڑا بھائی اور میں ہر سال اپنے مال میں سے زکوٰۃ بھی نکالتا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ کیا میں اس کا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اس کے ذاتی خرچوں کو اپنی زکوٰۃ میں سے ادا کرسکتا ہوں؟ یہ بھی واضح رہے کہ اس کی ذاتی خرچوں میں کچھ ایسی بھی چیزیں ہیں جو غیر ضروری ہوتی ہیں، جیسے سپورٹس آئٹمز، لیپ ٹاپ، جم فیس اور دوسرے لگژری آئٹمز۔ برائے مہربانی اس مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1۔ صدقہ اور خیرات میں کوئی فرق ہے کہ نہیں؟ اور کیاصدقہ دیتے وقت لینے والے کو بتانا ضروری ہے؟
سوال نمبر2۔ کیا صدقہ کی رقم سےکسی کی تنخوا ہ یا اجرت دی جا سکتی ہے؟ اور کیا صدقہ سے مدرسے کے طلباء کو یا کسی غریب کو راشن دیا جا سکتا ہے؟
سوال نمبر3۔ لوگ صدقہ کا بکرا کرتے ہیں۔ اس کی اسلامی نظریہ کے مطابق کیا حقیقت ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آپ کے ادارے میں زکوۃ سے متعلق ہونے والے آن لائن درس میں شرکت کی، جس میں مفتی صاحب نے بیان فرمایا تھا کہ زکوۃ کے مستحق شخص کو اگر کوئی چیز مالک بنا کر دی جائے مثلا راشن بیگ تو وہ شخص اس سامان کو کسی بھی طرح سے استعمال کر سکتا ہے، مثلا وہ شخص وہ سامان بیچ کر نقد پیسے استعمال کر سکتا ہے۔ دریافت یہ کرنا تھا کہ کیا یہ اصول صرف انفرادی شخص پر لاگو ہوتا ہے یا پھر کوئی تنظیم بھی ایسا کرسکتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے پاس چودہ بھینسیں ہیں، جو میں نے ستمبر سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں خریدی ہیں اور میں نے ستمبر میں ہی فارم کے لیے پلاٹ بھی خریدا تھا اور میرا اس پلاٹ کو فی الحال بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ مجھے زکوٰۃ دینی ہے کہ نہیں؟ اور اگر دینی ہے تو کب دینی ہے؟ نیز میں نے ستمبر سے اب تک جو رقم دوبارہ جمع کی ہے، اس پر بھی زکوٰۃ بنتی ہے؟ میر ی رہنمائی کریں میں آپ کا انتہائی شکرگزار رہوں گا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کینسر کی مریض ہے، اس کے علاج پر ہر مہینے پچاس ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ اس کے تین بچے ہیں، بڑی بیٹی کی عمر پندرہ سال ہے۔ اس کے شوہر کی آمدنی پچیس ہزار ہے۔ اس کے پاس کوئی زیور نہیں، سوائے چھوٹی موٹی کیلیں یا لاکٹ کے۔ مریضہ کے باپ کے پاس دو دوکانیں ہیں، ایک پر وہ خود بیٹھ کر کماتے ہیں اور دوسری انہوں نے کرائے پر دے رکھی ہے۔ اور دو گھر ہیں، ایک میں وہ خود اوپر کے حصے میں رہتے ہیں اور نیچے مریضہ رہتی ہے، دوسرا فلیٹ ہے جو کرائے پر ہے اور اس فلیٹ میں مریضہ بھی 25 فیصد کی حصے دار ہے، یعنی مریضہ نے فلیٹ کی مد میں ۲۵ فیصد رقم ملائی تھی۔ جس وقت فلیٹ لیا تھا، اس کی قیمت تیس لاکھ تھی، تو انہوں نے تقریباً ساڑھے سات لاکھ ملائے تھے۔ اس فلیٹ کی کل مالیت پچیس سے تیس لاکھ روپے ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم سے اس کا علاج کرواسکتے ہیں؟