Menu

Fatawaa

ایسے شخص كو زكوة دینا جس كى ملكیت میں خالى گھر ہو

Dec 30 2020

آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس کی عمر پچاس سال سے اوپر ہو اور وہ کمانے کے لائق نہیں، اس کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہیں، اس کے نام ایک رہائش کی جگہ ہے تقریباً دس مرلہ وہ بھی سرکاری زمین ہے، آیا اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ 
تنقیح: سوال میں مذکورہ جس شخص کے نام پر سرکاری مکان ہے کیا وہ اسی مکان میں رہائش پذیر ہے، یا اس کے علاوہ ان کو سرکار کی طرف سے دس مرلہ کا مکان الگ سے دیا گیا ہے، جس پر ان کی ملکیت ہے، وہ جیسے  چاہے اس میں تصرف کرسکتے ہیں؟
جوابِ تنقیح: مذکورہ شخص کی رہائش ان کے رشتے کی بہن کے گھر ہے اور سرکاری جگہ جس پر ان کی ملکیت ہے وہ رہنے کے قابل نہیں، خالی پڑی ہے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے کہ شرعاً مستحق زکوٰۃ وہ شخص ہے جس کی ملکیت میں قرضوں کو منہا کرنے کے بعد نقد رقم سونا، چاندی، مالِ تجارت اور زائد از ضرورت سامان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نہ ہو، اور جس شخص کے پاس اتنی مالیت کا مال موجود ہو وہ مستحق زکوٰۃ نہیں، اور اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، لہذا مذکورہ شخص کی ملکیت میں جو دس مرلہ کا گھر موجود ہے، اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زائد مالیت کا ہے تو مذکورہ شخص شرعاً نصاب کا مالک ہے، لہذا ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں، اگر کسی نے ان کو زکوٰۃ دی تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
لَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا أَيَّ مَالٍ كَانَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ سَوَائِمَ أَوْ عُرُوضًا لِلتِّجَارَةِ أَوْ لِغَيْرِ التِّجَارَةِ فَاضِلًا عَنْ حَاجَتِهِ فِي جَمِيعِ السَّنَةِ هَكَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ. (الفتاوى الهندية،1/189)
فإن كان مستغرقا بحاجة مالكه حل له أخذها وإلا حرمت عليه كأثياب تساوي نصابا لا يحتاج إلى كلها أو أثاث لا يحتاج إلى استعماله كله في بيته وعبد وفرس لا يحتاج إلى خدمته وركوبه ودار لا يحتاج إلى سكنها، فإن كان محتاجا إلى ما ذكرنا حاجة أصلية فهو فقير يحل دفع الزكاة إليه وتحرم المسألة عليه. (فتح القدير،2/261)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4586