Dec
22
2020
جس بچے كى عمر چودہ سال سے كچھ ماہ زىادہ ہو اور وہ پڑھ بھى رہا ہو، لىكن اس كے ماں باپ كى حىثىت كے بارے مىں معلوم نہ ہو كہ ان كے پاس كوئى زىور وغىرہ ہے ىا نہىں، تو اىسے بچے كو زکوٰۃ دى جاسكتى ہے؟ اور اگر دى جاسكتى ہے تو كس عمر مىں دى جائے، تاكہ وہ اپنے تعلىمى اخراجات پورے كرسكے؟ اس مسئلےمىں رہنمائى فرمائىں۔
الجواب باسم ملهم الصواب
بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا زکوٰۃ کے معاملے میں وہ اپنے والد کے تابع ہوتا ہے، بالغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بچے كى عمر بارہ سال پوری ہوجائے اور اس كے بعد اس كو احتلام ہوجائے، ىا اس كى عمر چاند كے حساب سے پندرہ سال مكمل ہوجائے تو شرعاً وہ بالغ شمار ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ مىں اگر ىہ بچہ بالغ اور مستحق ِ زکوۃ ہے، خواہ اس کا والد صاحبِ نصاب ہو یا نہ ہو، تو وہ تعلیمی اخراجات اور دىگر ضرورىات کے لىے کسی سے زکوٰۃ کی رقم لے سکتا ہے، بالخصوص جبکہ اس کے والدین تعلیمی خرچہ اٹھانے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ اور اگر بچہ ابھی تک نابالغ ہے تو دیکھا جائے گا کہ اگر اس کا والد مالدار ہو توبالغ ہونے تك اس كو زكوة نہىں دى جاسكتى، اگر والد مالدار نہ ہو تو اس كو زكوة دى جاسكتى ہے۔
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية وهي مسكنه وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه ومركبه وسلاحه ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي (الفتاوى الهندية ،۱/۱۸۹)
ولا يجوز دفعها إلى ولد الغني الصغير كذا في التبيين. ولو كان كبيرا فقيرا جاز، ويدفع إلى امرأة غني إذا كانت فقيرة، وكذا إلى البنت الكبيرة إذا كان أبوها غنيا؛ لأن قدر النفقة لا يغنيها وبغنى الأب والزوج لا تعد غنية كذا في الكافي.ويجوز صرفها إلى الأب المعسر، وإن كان ابنه موسرا كذا في شرح الطحاوي.ويجوز صرفها إلى من لا يحل له السؤال إذا لم يملك نصابا، وإن كانت له كتب تساوي مائتي درهم إلا أنه يحتاج إليها للتدريس أو التحفظ أو التصحيح يجوز صرف الزكاة إليه كذا في فتاوى قاضي خان. سواء كانت فقها أو حديثا أو أدبا هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية ،۱/۱۸۹)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4608