Jan
22
2021
میرا سوال یہ ہے كہ ایک سىدہ خاتون ہىں، لیکن ان کے شوہر سید نہیں، وہ بہت زیادہ ضرورت مند بھى ہے اوران کی ملازمت وغىرہ بھی نہیں ہے، توکیااىسے شخص كو زكوة دى جاسكتى ہےجس كى بىوى سىدہ ہو اور وہ خود سىد نہ ہو؟ جزاك اللہ خىرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
سید اور ہاشمی کا اطلاق بنو ہاشم پر ہوتا ہےاور بنو ہاشم میں سے حضرت عباس بن عبد المطلب، حضرت حارث بن عبد المطلب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جعفر بن ابی طالب، اور حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہىں، اور ان سب کی اولاد کو زکوۃ دینا ممنوع ہے۔ جو شخص مذکورہ خاندانوں میں سے کسی خاندان سے تعلق رکھتا ہو وہ سید اور ہاشمی ہے۔ اور ان کی شرافت اور احترام کے پیشِ نظر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زکوۃ و صدقاتِ واجبہ لینے سے منع فرمادیا تھا۔ لہٰذا مذکورہ صورت مىں اگر خاتون كا شوہر مذكورہ بالاسادات مىں سے نہیں ہے، نیز وہ مستحق زکوة ہے تو اسے زکوة دىنا جائزہے، زکوة ادا ہوجائے گی۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد». رواه مسلم (مشكاة المصابيح،۱/۵۷۲)
ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية (الفتاوى الهندية،۱/۱۸۹)
ويؤخذ من هذا أن من كانت أمها علوية مثلا وأبوها عجمي يكون العجمي كفؤا لها، وإن كان لها شرف ما لأن النسب للآباء ولهذا جاز دفع الزكاة إليها فلا يعتبر التفاوت بينهما من جهة شرف الأم ولم أر من صرح بهذا والله أعلم. (حاشية ابن عابدين،۳/۸۷)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4681