دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال: السلام علیکم! زید صاحب نصاب ہے اور ہر سال زکوۃ ادا کرتا ہے۔ حال ہی میں زید نے ایسا پلاٹ فروخت کیا ہے جو مال تجارت میں سے نہ تھا۔ زید کو ایک تہائی رقم مل چکی ہے جبکہ دو تہائی رقم دو سالوں میں اقساط کی صورت میں ادا ہونی ہے۔ غالب گمان ہے کہ تین سال یا اس سے زائد میں اقساط ادا ہوں گی۔ جو مال ابھی زید کو ملا نہیں لیکن ملنا ہے ، کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال: السلام علیکم! ایک بندے کے پاس دو لاکھ روپے ہیں اور وہ اس پر کاروبار کر رہا ہےاوراسکے ساتھ وہ آٹھ لاکھ روپے قرض دار ہے آیا اس بندے پر زکوة فرض ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال: میں زمینوں کا کاروبار کرتا ہوں، اور بیچنے کی نیت سے زمینیں خریدتا ہوں، تاکہ نفع کماسکوں۔ میرے پاس فی الوقت کچھ زمینیں ہیں جنہیں میں بیچنے کی کوششیں کررہاہوں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھے ان زمینوں کی زکوٰۃ ابھی ادا کرنی ہوگی یا میں ان زمینوں کے بکنے کا انتظار کروں اور ملنے والی رقم پر زکوٰۃ ادا کروں؟ اسلام اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال : کیا ہم اپنی زکوٰۃ کی رقم غیر مسلموں پر خرچ کرسکتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال: السلام علیکم!ہم سڈنی(آسٹریلیا)میں رہائش پذیر ہیں، اور کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے طے کیا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کے علاقے(لانڈھی)میں پانی کے لیے کھدائی کروائیں۔لانڈھی کے علاقے میں زیادہ تر غریب لوگ آباد ہیں جو اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لیے پانی خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے، اس کام کے لیے ہم نے سڈنی میں اپنے دوستوں سے تعاون کی اپیل کی اور بحمداللہ مطلوبہ رقم جمع ہوگئی۔ لیکن کچھ افراد نے اس کی مد میں زکوٰۃ کی رقم جمع کروائی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کام کے لیے کل رقم یا کچھ رقم زکوٰۃ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ’فی سبیل اللہ‘ کے زمرے میں آتا ہے؟ مسئلہ کی نوعیت کی بنا پر ہمیں آپ کا جواب فوری بنیادوں پر درکار ہے۔جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر 1: زکو ٰۃ معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے ۔اگر آپ نے کوئی قرض لیا ہوا ہو یا پھر کسی ضرورت مند کوکچھ قرض دیا ہوا ہو ؟
سوال نمبر 2: ً کیا زکو ٰۃ کا مال کسی کو قرض سے نجات دلانے کے لئے استعمال ہوسکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال:میرا ذاتی کاروبار ہے، کاروبار کے آغاز میں ایک دفتر لیا، بعد ازاں ایک دوسرے دفتر میں منتقل ہو گئے اور پرانا دفتر کئی سالوں سے ملکیت میں ہے لیکن خالی پڑا ہے کسی استعمال میں نہیں ہے، مستقبل میں ارادہ اس کو بیچ کر رقم کاروبار میں لگانے کا ہے۔کیا اس خالی دفتر کی بھی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما ئیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
السلام علیکم!میں گھر خریدنے کے لئے رقم جمع کر رہا ہوں اور فی الحال اپنے والدین کے ساتھ رہ رہا ہوں ۔میرا سوال یہ ہے کہ:
سوال نمبر 1:کیا اس مال پر زکو ٰۃ لاگو ہوتی ہے؟
سوال نمبر 2:کیا میں زکو ٰۃ کا پیسہ اپنے بھائی کو کاروبار کے لئے دے سکتا ہوں ؟
سوال نمبر 3:اسٹاک مارکیٹ بزنس،طویل و مختصر میعادی خریدو فروخت برائے منافع؟مثلا ً آج ہم کے الیکٹرک کے شیئرز 8روپے کے حساب سے خریدتے ہیں اور اگر کل ان شیئرز کی قدر بڑھ کر 9 روپئے ہوجائے تو ہم ان شیئرز کو بیچ کر ہر شیئر پر 1روپے کا منافع کمالیں ۔یہ روزانہ کا معمول ہوتا ہے کبھی آپ کو منافع ہوتا ہے اور کبھی نقصان ؟
سوال نمبر4:اگر زکو ٰۃ کے سال کے بیچ میں منافع ملے (میری زکو ٰۃ کا سال یکم رمضان ہے)تو کیا مجھے پہلے رمضان کو زکو ٰۃ دینی ہوگی یا سال مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا؟