Menu

Fatawaa

بیچنے کی نیت سے خریدی گئی زمین پر زکوٰۃ(1174)

Apr 25 2019

سوال: میں زمینوں کا کاروبار کرتا ہوں، اور بیچنے کی نیت سے زمینیں خریدتا ہوں، تاکہ نفع کماسکوں۔ میرے پاس فی الوقت کچھ زمینیں ہیں جنہیں میں بیچنے کی کوششیں کررہاہوں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھے ان زمینوں کی زکوٰۃ ابھی ادا کرنی ہوگی یا میں ان زمینوں کے بکنے کا انتظار کروں اور ملنے والی رقم پر زکوٰۃ ادا کروں؟ اسلام اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

واضح رہے کہ وہ زمین،مکان ، پلاٹ وغیرہ جو بیچنے کی نیت سے خریدے جائیں وہ مال تجارت کے حکم میں ہیں اور ان پر سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل نے جتنی زمینیں بیچنے کی نیت سے خریدی ہیں ان زمینوں پر اگر سال گزر چکا ہے تو فی الفور زکوٰۃ واجب ہے زمینوں کے بکنے کا انتظار کرنا اور پھر ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے زکوٰۃ ادا کرنا درست نہیں۔(1)

واللہ اعلم بالصواب

1۔وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة (بدائع الصنائع،کتاب الزکاۃ،فصل صفۃ نصاب التجارۃ)،
( أو نية التجارة ) في العروض ، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء(رد المحتار،کتاب الزکاۃ)،
وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض  ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه(الدر المختار،کتاب الزکاۃ)،
وهي  واجبة على الفور وعليه الفتوى فيأثم بتأخيرها بلا عذر وترد شهادته(طحطاوی علی المراقی،کتاب الزکاۃ)