Apr
25
2019
سوال نمبر 1: زکو ٰۃ معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے ۔اگر آپ نے کوئی قرض لیا ہوا ہو یا پھر کسی ضرورت مند کوکچھ قرض دیا ہوا ہو ؟
سوال نمبر 2: ً کیا زکو ٰۃ کا مال کسی کو قرض سے نجات دلانے کے لئے استعمال ہوسکتا ہے؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
جواب نمبر 1:واضح رہے کہ جو رقم قرض کے طور پر کسی کو دی ہوئی ہو اس پر زکو ٰۃ واجب ہوتی ہے اور جو رقم قرض کے طور پر لی ہوئی ہو اس پر زکو ٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔لہذا زکو ٰۃ کا حساب کرتے وقت موجودہ تمام مالیات اور جتنے لوگوں کو قرضے دیے ہوئے ہیں سب کو ملا کر مجموعی رقم میں سے قرض کے طور پر لی ہوئی رقم کو منھا کرنے کے بعد جو رقم بچے اس پر زکو ٰۃ واجب ہے ۔بشرطیکہ وہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہو۔(1)
جواب نمبر 2:کسی مقروض شخص کو قرضے سے نجات دلانے کے لئے زکو ٰۃ کی رقم مالک بنا کر دینا جائز ہے۔(2)
واللہ اعلم بالصواب
1۔( فلا زكاة على مكاتب )۔۔۔ ( ومديون للعبد بقدر دينه )فیزکی الزائد ان بلغ نصابا (رد المحتار،کتاب الزکاۃ)
ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه ۔۔۔وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل(الھدایۃ،فصل فی الدفن،ص96،الناشر المكتبة الإسلامية)
اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة : قوي ، ومتوسط ، وضعيف ؛ ( فتجب ) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول ، لكن لا فورا بل ( عند قبض أربعين درهما من الدين
(رد المحتار،کتاب الزکاۃ،باب زكاة المال)
2۔ ومنها الغارم وهو من لزمه دين ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات(فتاویٰ ھندیۃ،ص 188،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)