Apr
27
2019
سوال: السلام علیکم! زید صاحب نصاب ہے اور ہر سال زکوۃ ادا کرتا ہے۔ حال ہی میں زید نے ایسا پلاٹ فروخت کیا ہے جو مال تجارت میں سے نہ تھا۔ زید کو ایک تہائی رقم مل چکی ہے جبکہ دو تہائی رقم دو سالوں میں اقساط کی صورت میں ادا ہونی ہے۔ غالب گمان ہے کہ تین سال یا اس سے زائد میں اقساط ادا ہوں گی۔ جو مال ابھی زید کو ملا نہیں لیکن ملنا ہے ، کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:
قرض كی رقم اگر قسط وار وصول ہو تو سال پورا ہونے پر جتنی رقم وصول ہوچکی ہے اس کی زکوٰۃ دینا لازم ہے ، اگر وصول شدہ رقم کی زکوٰۃ نہیں دی تو جب مکمل رقم وصول ہو گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینا بھی لازم ہوگا۔ مثلاً مکمل قرض 50,000 روپے ہے اور اس سال 25,000/= وصول ہوا تو اگر اس سال پچیس ہزار کی زکوٰہ نہیں دی تو اگلے سال جب مزید 25,000/= وصول ہوئے تو گذشتہ سال کی بھی پورے پچاس ہزار کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔(1)
واللہ اعلم بالصواب
(1). وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الزكوة، شروط وجوب الزكوة)