Menu

Fatawaa

کاروبار کے لیے خریدے گئے دفتر پرزکوٰۃ(1310)

Apr 25 2019

سوال: السلام علیکم!زکوۃ کی بابت مسئلہ معلوم کرنا ہے،میرا ذاتی کاروبار ہے، کاروبار کے آغاز میں ایک دفتر لیا، بعد ازاں ایک دوسرے دفتر میں منتقل ہو گئے اور پرانا دفتر کئی سالوں سے ملکیت میں ہے لیکن خالی پڑا ہے کسی استعمال میں نہیں ہے، مستقبل میں ارادہ اس کو بیچ کر رقم کاروبار میں لگانے کا ہے۔کیا اس خالی دفتر کی بھی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما ئیں۔
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
صورت مسئولہ میں سائل نے دفتر اس لیے خریدا تھا تاکہ اس میں کاروبار کرے دفتر کو بیچ کر اس کی تجارت مقصود نہیں تھی، تو اب دفتر کے خالی ہونے کی صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اگرچہ اس کو بیچ کر کاروبار میں لگانے کی نیت ہے۔(1)
واللہ اعلم بالصواب
1۔(فلا زكاة على مكاتب) ۔۔۔(ولا في ثياب البدن)المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها)(الدر المختار،کتاب الزکاۃ) ،
وقوله ونحوها : أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات(رد المحتار،کتاب الزکاۃ)،
فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة(الفتاوی الھندیۃ،كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسيرها۔۔۔)،
( وما اشتراه لها ) أي للتجارة ( كان لها ) لمقارنة النية لعقد التجارة(رد المحتار،کتاب الزکاۃ)،
ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر(الھدایۃ،فصل فی الدفن)،