Menu

Fatawaa

قرض دار پر زکوٰۃ (3461)

Apr 27 2019

سوال: السلام علیکم! ایک بندے کے پاس دو لاکھ روپے ہیں اور وہ اس پر کاروبار کر رہا ہےاوراسکے ساتھ وہ آٹھ لاکھ روپے قرض دار ہے آیا اس بندے پر زکوة  فرض ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:

آٹھ لاکھ روپے کے قرض دار شخص کے بارے میں یہ بات واضح رہے کہ یہ اس پر آٹھ لاکھ روپے کا قرضہ فی الفور ادا کرنا لازم ہے یا ایک مدت مقررہ تک تھوڑا تھوڑا ادا کرنا ہے۔ اگر پورے آٹھ لاکھ کی ادائیگی ایک ساتھ لازم ہے تو مذکورہ شخص پر زکوۃ لازم نہیں ، لیکن اگر آٹھ لاکھ قرض کی رقم ایک ساتھ ادا نہیں کرنی بلکہ تھوڑی تھوڑی قسط وار ادا کرنی ہے تو جتنی رقم سالانہ ادا کرنا لازم ہے اس کو نکالنے کے بعد اگر مذکورہ شخص صاحب نصاب بنتا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔ اس صورت میں قرض کی پوری رقم کو زکوٰۃ لازم ہونے کے لیے مانع نہیں سمجھا جائے گا۔(1) 

واللہ اعلم بالصواب

(1).(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع (الدر المختار وحاشية ابن عابدين(رد المختار)، كتاب الزكوٰة)