دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کچھ کمپنیاں اپنے مال کو انشورڈ کروالیتی ہیں مثلا دھاگا بنانے والی کمپنی اپنا خام مال انشورڈ کروالیتی ہے اب اگر خدانخواستہ روئی میں آگ لگ جاتی ہے تو انشورنس کمپنی سے اپنا کلیم لے لیتی ہے اور جو جلی ہوئی روئی ہے وہ انشورنس کمپنی کی ملکیت بن جاتا ہے، پھر انشورنس کمپنی مارکیٹ میں اسے فروخت کردیتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو انشورڈ کروایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جس مال کو مارکیٹ فروخت کرتی ہے اس کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
برائے مہربانی درج ذیل کے بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ کیا یہ درست ہے؟ اور کیا اس کے مطابق کیا سمندر سے نکلنے والی ہر چیز کھائی جاسکتی ہے؟ جیسے کیکڑا، جھینگا، شارک، آکٹوپس، کستورا مچھلی(Oyester)، سشی(Sushi)، وغیرہ
’’کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو سمندر سے نکلتی ہے اور صرف سمندر میں رہتی ہے، حلال ہے اور اس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے:’’تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے، تاکہ وہ تمہارے لیے اور قافلوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنے‘‘(المائدۃ:96)۔ مزید ایک حدیث سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے آپﷺ کے دور میں لوگ وہیل اور بڑی مچھلیاں کھایا کرتے تھے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے:
’’ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا فوت ہونے کے بعد والدین کی روحیں گھر لوٹتی ہیں؟ حضرت علی نے جواب دیا: اے سلمان جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی روحیں اپنی اولاد کے پاس گھروں کو لوٹتی ہیں اور ان سے فریاد کرتی ہیں آہ و بکا کرتی ہیں اور یہ سوال کرتی ہیں کہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعے سے ان پر مہربانی کرو وہ اولاد سے اپنے لیے دعاؤں کا سوال کرتی ہیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: روحیں کب کب اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں؟ فرمایا: یہ شب جمعہ کو اپنے اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں اور اپنوں کو پکارتی ہیں جس کو لوگ نہیں سن سکتے پھر یہ روحیں مایوس ہو کر لوٹ جاتی ہیں سوائے ان کے جن کی اولاد نیکوکار اور والدین کے لیے صدقات و ایصال و ثواب کرتی رہتی ہیں۔ پھر فرمایا: اے سلمان! یاد رکھنا اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتے رہنا، جب کوئی اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتا ہے تو یہ روحیں اللہ تعالی سے فریاد کرتی ہیں: یا اللہ جس طرح ہماری اولاد نے ہمارے اوپر احسان کیا ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا تو بھی ان پر رحم فرما اور دنیاوی پریشانیوں تکلیفوں اور بیماریوں کو ان سے دور فرما ۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک قادیانی شخص جو نبوت کا دعویدار بھی تھا، اسے ایک مسلم بھائی نے دعویٰ نبوت کی سزا کے طور پر قتل کر دیا، کیا اسلام ایسے قتل کو جائز قرار دیتا ہے؟ یا ایسے دعویدار کا قتل و سزا حکومت کی ذمہ داری ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری والدہ نے اپنی ساری جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کر دی ہے۔ اب مزید جائیداد خریدی ہے، وہ چاہتی ہیں کہ اب یہ جائیداد وہ اللہ کے نام پر وقف کر دیں۔ یعنی ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں ہی کے پاس رہے مگر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کی جائے، بچے اس کے نگران ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر کوئی شخص کسی معاملے میں استخارہ کرتا ہے، جس میں مثبت صورت حال سامنے آتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ شخص اپنی مرضی سے کوئی اور کام کرے تو اس کا کیا حکم ہے اور اس طرح کرنے سے کیا ہوتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم لوگ اپنے مرحومین کے ایصال ثواب کےلیے پورا سال قرآن پاک اور تسبیحات پڑھتے رہتے ہیں، سال کے خاص دن جسے برسی کہا جاتا ہے اس دن بھی ایصال ثواب کےلیے پڑھتے ہیں۔ لیکن ایک دوست کا کہنا ہے کہ پورا سال پڑھنا جائز ہےمگر برسی والے دن پڑھنا بدعت ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کیا ان کی بات درست ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’سیاہ کپڑے مت پہنا کرو، کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے‘‘۔ (من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق)
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
برائے مہربانی اس حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟
’’آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی مردے کو دفناؤ تو کوئی ایک شخص اس کے سرہانے بیٹھ جائے، جب سب لوگ چلے جائیں تو وہ شخص اس سے کہے کہ اے فلاں بن فلانہ (یعنی مردے کا نام لے اور اس کی والدہ کا نام لے)، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اگر اس کی والدہ کا نام معلوم نہ ہو تو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایاکہ حضرت حوا کی طرف نسبت کردیں (یعنی فلاں بن حوا)۔ آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ اس کو پکارا جائے گا تو مردہ سنے گا لیکن جواب نہیں دے گا، تھوڑی دیر ٹھہر کر دوبارہ پکاریں تو وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا، پھر اسی طرح تیسری مرتبہ پکاریں تو وہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے، مجھے کچھ تلقین کرو (یہ آوازیں وہ شخص تو نہیں سن سکتا لیکن حدیث کے مطابق وہ کہتا ہے) لہذا وہ شخص کہے کہ جو کچھ تم دنیا سے کہتے آئے اسے یاد کرویعنی یہ کہ تمہارارب اللہ تعالیٰ ہے، تمہارا امام قرآن ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا دین اسلام ہے (چار چیزوں کے بارے میں، رب کے بارے میں، نبی کے بارے میں، دین کے بارے میں اور امام یعنی قرآن کے بارے میں) آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب اس طرح تلقین کی جائے گی تو جب منکر نکیر آئیں گےتو وہ کہیں گے کہ جس شخص کو اس کی حجت یا دلیل پہلے ہی سکھادی گئی ہو، اس سے ہم کیا سوال کریں؟ تو وہ بغیر سوال کیے ہی رخصت ہوجائیں گے‘‘۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا سوال ہے کہ ایک شخص جو سودی بینک میں ملازمت کرتا ہے اور ان ہی پیسوں سے عمرہ کر کے آئے، تو کیا ایسے شخص کا عمرہ ہوجاتا ہے؟ اور اگر یہی شخص عمرہ سے واپسی پر ایک جائےنماز تحفہ میں دے تو کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر نماز پڑھ لی تو کیا گناہ ہوگا؟ اگر ہاں تو اس کا کفارہ بتا دیں۔