دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مىرے ساس سسر زندہ ہىں، ان كے چار بىٹے ہیں اور اىك بىٹى ہے، سسر صاحب كا اىك مكان ہے جس كى مالىت اسى لاكھ ہے، تو اب وہ مكان بىچ كر اپنى جائداد تقسىم كرنا چاہتے ہىں توىہ تقسىم كىسے ہوگى۔ بىٹى اوربىٹوں كو كتنا حصہ دىا جائے گا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مىرا سوال وقف على الاولاد كےحوالے سے ہے، اس مىں ىہ وضاحت دركار ہے كہ اس كا كىا فائدہ ہے، اوراولاد كے نام پر وقف كرنے كا مقصد كىا ہے، كىونكہ لوگ دنىا وآخرت كے نام پر وقف كرتے ہىں، اورمىں اپنى جائیداد كو اپنى اولاد پر وقف كرنا چاہتاہوں، كسى ادارے كو نہىں، تو كىا مىرى اولاد اس وقف مىں سے كھا پى سكے گى ىا نہىں؟ اوراس كو بىچنے كا اختىار ان كوہوگا ىا نہىں؟ جزاك اللہ خىراً۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر میں اپنى زندگى مىں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں كے نام اپنى جائداد كرنا چاہوں، تو اس كى كیا صورت ہوگى، اگر میں ان كو یہ كہہ دیتا ہوں كہ یہ چىز آپ كى ہوگى، توكىا اس سے ان كى ملكیت ثابت ہوجائے گى، یا ان كے نام كى جانے والى جائداد كوسركارى طور پر رجسٹرىشن كروانا ضرورى ہے؟ كیا بغیر رجسٹریشن كے ان كا قبضہ شمار ہوگا، یا كسى سادہ كاغذ پرلكھ كر دینے سے بھى ہوجائے گا؟ اس میں اسلامى قانون كیا كہتا ہے،ان كى ملكیت كا اعتبار كب كىا جائےگا؟ جزاك اللہ خیراً۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مسجد سے متعلق شریعت میں "متولی" کا کیا مفہوم ہے؟ کون اس کا اہل ہوتا ہے اور کون کسی شخص کو متولی بناسکتا ہے؟ متولی کے کیا حقوق و فرائض ہیں؟ اورکیا تاحیات ایک ہی شخص متولی رہتا ہے یا تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم ایک مکان میں ایک والدہ، دو بھائی اور ایک بہن رہتے ہیں، بڑے بھائی نے والد صاحب کے انتقال کے بعد میراث کا مطالبہ کیا اور میں نے علمائے کرام کے مشورے سے بڑے بھائی کو اس پلاٹ کا آدھا حصہ دے دیا اور اس کے بعد میں نے چاہا کہ اب جس آدھے حصے میں ہم رہتے ہیں اس میں بہن کا بھی حصہ ہے اور وہ شادی شدہ بھی ہیں وہ کہیں اور رہتی ہیں، میں نے چاہا کہ ان کو بھی میراث ادا کردوں تاکہ میں اس معاملہ سے بری الذمہ ہوجاؤں تو میں نے بہن سے کہا کہ آپ اپنا میراث لے لیں بہن نے کہا کہ بھائی جان مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، وہ آپ رکھ لیں میری حالت بہتر ہے۔ والدہ اور میں اس مکان میں رہنے لگے اب 10 سال کے بعد بہن اس میراث کی مطالبہ کررہی ہیں۔ آیا میں ان کو میراث اس وقت کی قیمت میں ادا کروں یا اس دور کےمطابق؟ اس وقت گھر کی قیمت دولاکھ تھی اور اب اس کی قیمت پچاس لاکھ ہے۔ برائے کرم شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے دادا نے انتقال سے قبل اپنی تمام جائداد اپنے ایک بیٹے کو تحفۃً دے دی اور وہ بیٹا ان کو نہ نہیں کہہ سکا، کیوں کہ وہ اپنے والد کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ وہ سب سے فرمانبراد بچہ تھا اور ان کی پوری زندگی ان کا خیال رکھا۔ لیکن اب فیملی کے دوسرے لوگ کہہ رہے کہ یہ غلط فیصلہ ہے اور اسے اس کو قانون کے مطابق تقسیم کرنا چاہیے۔ اب اس بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟ اور اگر وہ تقسیم نہیں کرے گا تو کیا یہ گناہ ہوگا؟ یا اس کے لیے درست ہے کہ تمام جائداد خود رکھ لے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا مسجد کے پیسوں سے مسجد میں کفن اور چارپائی لاکر رکھ سکتے ہیں کہ بعد میں میت والوں سے لے لیے جائیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاندان میں جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ ہے، وه یہ کہ چھ سال پہلے والدین کی وفات کے بعد تمام بہنوں اور بھائیوں نے آپس میں طے کیا کہ شریعت کے مطابق حصہ تقسیم ہو گا اور اس وقت کی قیمت کے مطابق دو بہنوں کو حصہ سے بڑھ کر ادائیگی بھی کردی، ایک بہن نے کہا میں نے رقم نہیں فلیٹ لینا ہے تو ان کی یہ بات بھی مان لی گئی، اعتماد کی وجہ سے کوئی تحریر نہیں کی، کچھ کاغذات کی وجہ سے عدالت میں بیان دینے میں تاخیر ہوئی لیکن سب بہن بھائی اس پر متفق تھے۔ اب سال ۲۰۲۰ء میں بیان ہونے ہیں، تو کچھ شرارتی افراد نے بہنوں کو کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ ابھی جائیداد تمہارے والدین کے نام ہی ہے تو بیان بعد میں دینا پہلے آج کی قیمت کے مطابق حصہ وصول کرو۔ اس بارے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے جب کہ چھ سال قبل ہر بات طے ہو گئی تھی۔ کیا بھائی آج کی قیمت کے مطابق ادائیگی کریں گے؟ بہت پریشانی ہے، تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں ۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک گورنمنٹ ٹیچر کی دوران سروس وفات ہوئی ہے اور ان پر قرض بهی تها تو اس صورت میں حکومت کی طرف سے ورثاء کو ملنے والے فنڈز میں سے ایک بیٹا اپنے حصے میں آنے والی رقم میں سے قرض دیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ یا وراثت تقسیم ہونے سے پہلے قرض ادا کرنا لازمى ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری والدہ نے اپنی ساری جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کر دی ہے۔ اب مزید جائیداد خریدی ہے، وہ چاہتی ہیں کہ اب یہ جائیداد وہ اللہ کے نام پر وقف کر دیں۔ یعنی ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں ہی کے پاس رہے مگر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کی جائے، بچے اس کے نگران ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟