Menu

Fatawaa

زندگى مىں جائداد تقسىم كرنا

Jan 08 2021

مىرے ساس سسر زندہ ہىں، ان كے چار بىٹے ہیں اور اىك بىٹى ہے، سسر صاحب كا اىك مكان ہے جس كى مالىت اسى لاكھ ہے، تو اب وہ مكان بىچ كر اپنى جائداد تقسىم كرنا چاہتے ہىں توىہ تقسىم كىسے ہوگى۔ بىٹى اوربىٹوں كو كتنا حصہ دىا جائے گا؟
الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے كہ ہرشخص اپنى زندگی میں اپنے مال وجائداد کا تن تنہا مالک ہے اور مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلےاس میں ہر جائز تصرف کرنے کاحق اسے حاصل ہے، چنانچہ کسی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دینا بھی جائز ہے۔ لہذامذكورہ صورت مىں اگر سسر صاحب اپنى جائداد كواپنى زندگى مىں اپنى اولاد كےدرمیان تقسیم كرنا چاہتے ہىں، توانہىں اس كا پورا حق حاصل ہے، لیكن زندگى مىں جائداد تقسىم كرنا ہبہ كہلاتا ہے، اور بطور ہبہ جائداد تقسیم  كرنے سے پہلے مستحب ىہ ہے كہ اپنا قرض ادا كردیں،اوراپنی اور اپنى بىوى كى ضرورت کے بقدر كچھ مال رکھ کربقیہ مال لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر برابر تقسیم کردىں۔ تاہم اگر میراث کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے سے نصف دے دیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے، اسی طرح اگراولاد میں سے کسی کو اس کی ضرورت، خدمت، یا نیکی کی بناء پر زیادہ دے دیں، تو یہ بھی درست ہے، لیکن کسی کو نقصان پہنچانے كےلىے دوسرےکو سارا یا زیادہ مال دینا گناہ ہے۔
لہذا مذكورہ صورت مىں آپ كے سسر مكان كو فروخت كركے اس كى رقم بىان كردہ طرىقوں مىں سے كسى بھى طرىقے كے مطابق تقسىم كرسكتےہىں، البتہ ہبہ مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہر اىك كو اس كا حصہ قبضے میں دے کر مالک بنادیا جائے۔
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحل لقوله سبحانه وتعالى { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى  وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيينب(بدائع الصنائع،١٣/٢٨٥)
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.ب(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۷/ ۲۸۸)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.ب(الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۵/ ۶۹۰)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4642