Oct
24
2020
میرے دادا نے انتقال سے قبل اپنی تمام جائداد اپنے ایک بیٹے کو تحفۃً دے دی اور وہ بیٹا ان کو نہ نہیں کہہ سکا، کیوں کہ وہ اپنے والد کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ وہ سب سے فرمانبراد بچہ تھا اور ان کی پوری زندگی ان کا خیال رکھا۔ لیکن اب فیملی کے دوسرے لوگ کہہ رہے کہ یہ غلط فیصلہ ہے اور اسے اس کو قانون کے مطابق تقسیم کرنا چاہیے۔ اب اس بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟ اور اگر وہ تقسیم نہیں کرے گا تو کیا یہ گناہ ہوگا؟ یا اس کے لیے درست ہے کہ تمام جائداد خود رکھ لے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
زندگی میں اپنی جائداد اولاد کو دینا ہبہ ہے۔ اس میں اولاد میں برابری کرنا مستحب ہے۔ کسی وجہ ترجیح (دینداری، خدمت، احتیاج وغیرہ) کے بغیر کسی کو زیادہ دینا جائز نہیں، یہ گناہ کا کام ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر والد نے اپنی زندگی میں پوری جائداد ایک بیٹے کو دے کر مالک بنادیا اور خود اس سے لا تعلق ہوگیا، تو وہ بیٹا اس کا مالک بن گیا، لیکن والد گناہ گار ہوکر مرا۔ بیٹے کو اب دوباتوں کا اختیار ہے، پوری جائداد اپنے پاس رکھے اور تقسیم نہ کرے، یا اپنے والد کو گناہ سے بچانے کے لیے کل یا بعض جائداد ورثاء میں تقسیم کرے۔
باب الْهِبَةِ لِلْوَلَدِ، وَإِذَا أَعْطَى بَعْضَ وَلَدِهِ شَيْئًا لَمْ يَجُزْ حَتَّى يَعْدِلَ بَيْنَهُمْ وَيُعْطِيَ الآخَرِينَ مِثْلَهُ، وَلاَ يُشْهَدُ عَلَيْهِ. وَقَالَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - «اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ فِى الْعَطِيَّةِ» (فیض الباري، ٤/٤٩، دار الکتب العلمية)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ إِنِّى نَحَلْتُ ابْنِى هَذَا غُلاَمًا. فَقَالَ «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ». قَالَ لاَ. قَالَ «فَارْجِعْهُ». (طرفاه 2587، 2650 - تحفة 11617، 11638)... وعندنا فيه تفصيلٌ، فإِنَّ رَجَّح بَعْضُهم على بَعْضٍ لمعنى صحيحٍ جاز، نحو إنْ كان بَعْضُهم معتملا، والآخَرُ غيرُ معتمل، أو كان له عِيالٌ كثيرة، وليست تسعهم نَفَقَتُه، فلا بأس أن يفضل بعضهم بعضًا في المِنْحة والصِّلة، كذا ذكره على القارِي، وهكذا ينبغي. ويجوز للفقيه أن يُخصِّص الحديث عند انجلاء الوَجْه. (فیض الباري، ٤/٤٩، رقم الحديث:2586)
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط... وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته...(البحر الرائق، کتاب الهبۃ، هبة الأن لطفة)
وفی الخانية لا بأس بتفضیل بعض الأولاد فی المحبة لأنها عمل القلب، وکذا فی العطایا إن لم یقصد به الإضرار، وإن قصده فسوی بینهم یعطي البنت کالإبن عند الثاني وعليه الفتوی. (الدر المختار وحاشية ابن عابدین :٥/٦٩٦، ط: دار الفکر بیروت).
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4553