Menu

Fatawaa

زندگى مىں جائداد تقسىم كرنا

Dec 08 2020

اگر میں اپنى زندگى مىں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں كے نام اپنى جائداد كرنا چاہوں، تو اس كى كیا صورت ہوگى، اگر میں ان كو یہ كہہ دیتا ہوں كہ یہ چىز آپ كى ہوگى، توكىا اس سے ان كى ملكیت ثابت ہوجائے گى، یا ان كے نام كى جانے والى جائداد كوسركارى طور پر رجسٹرىشن كروانا ضرورى ہے؟ كیا بغیر رجسٹریشن كے ان كا قبضہ شمار ہوگا، یا كسى سادہ كاغذ پرلكھ كر دینے سے بھى  ہوجائے گا؟ اس میں اسلامى قانون كیا كہتا ہے،ان  كى ملكیت كا اعتبار كب كىا جائےگا؟ جزاك اللہ خیراً۔
الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے كہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مال وجائداد کے تن تنہا مالک ہیں اور مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اس میں ہر جائز تصرف کرنے کا آپ کوحق ہے، چنانچہ کسی کو کوئی چیز تحفہ کے طور پر دینا بھی جائز ہے، لہذا اگر آپ  اپنی زندگی میں اولاد كے درمیان جائدادکو تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیكن یہ آپ کی طرف سے ہبہ (تحفہ) كہلائےگا، اور بطور ہبہ جائداد تقسیم  كرنے سے پہلے مستحب یہ ہے كہ آپ اپنا قرض ادا كردیں، اپنی اور بیوی کی ضرورت کے بقدر كچھ مال رکھ کر کے بقیہ مال لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر برابر تقسیم کردىں، تاہم اگر میراث کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے سے نصف دے دیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے، اسی طرح اگراولاد میں سے کسی کو اس کی ضرورت، خدمت،یا نیکی کی بناء پر زیادہ دے دیں، تو یہ بھی درست ہے، لیکن کسی کو نقصان پہنچانے كے لیے دوسرےکو سارا یا زیادہ مال دینا گناہ ہے۔
واضح رہے کہ یہ چونکہ ہبہ ہے اس لىےجس کو جو حصہ دینا چاہیں اس كو اپنى ملكىت سے علىحدہ كركے متعىن طور پر تقسىم كركے دے دىں۔ جو حصہ آپ دىں اس كى كوئى رجسٹرىشن كرواناشرعاً ضرورى نہىں، البتہ قبضہ ضرورى ہے، اورمنقولى اشىاء جىسے گاڑى وغىرہ كو اس كے حوالے كرنا اور غىر منقولى اشىاء جىسے زمىن وغىرہ كو اس كے مالكانہ اختىار اور تصرف مىں دے دىنا قبضہ كہلاتا ہے ،اس كے بغىر ہبہ درست نہىں ہوتا۔ 
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحل لقوله سبحانه وتعالى { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى  وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين(بدائع الصنائع،١٣/٢٨٥)
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۷/ ۲۸۸)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.(الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۵/ ۶۹۰)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4621