دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک صاحب کی بیوی کا انتقال ہوگیا، اس بیوی سے اس کے بچے بھی ہیں، بیوی کے انتقال کے بعد اس نے دوسری شادی کی، پہلی بیوی کا زیور اس نے دوسری بیوی کو بغیر مہر کے ویسے ہی دےدیا، کچھ عرصہ بعد دوسری بیوی سے معاملات خراب ہوئے تو اس نے دوسری بیوی کو طلاق دےدی، اب مسئلہ یہ ہوا کہ اس صاحب کے اور دوسری بیوی کے گھر والوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، بیوی والوں نے کہا کہ ہم نے جو سامان دیا تھا وہ ہمیں واپس کردیں اور یہ صاحب کہنے لگے کہ میں نے جو زیور وغیرہ دیا تھا وہ مجھے واپس کردیں۔ خیر اس نے وہ زیور ان سے لے لیا، کیا یہ لینا صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا لینے کے بعد دوبارہ لوٹانا چاہیے یا نہیں؟ اگر مرد لوٹانا نہ چاہے تو اس کے متبادل کیا صورت ہوسکتی ہے؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ زیور تو پہلی بیوی کی ملکیت کا تھا تو اس کا ورثاء میں تقسیم ہونا ضروری تھا، لیکن کیا ورثاء کی اجازت کے بغیر اس زیور کو کسی اور کے حوالے کرنے کی اجازت ہے؟ مرد کا کہنا ہے کہ بچے چونکہ چھوٹے نابالغ ہیں اس لیے میں نے آگے دےدیا، اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے مکان کے سامنے KMC کی ملکیت کی کچھ زمین ہے، جس پر تعمیر کا حق انہیں حاصل ہے، لیکن پچھلے تقریبا بیس سالوں سے کوئی تعمیرنہیں ہوئی، کنسٹرکشن کمپنی نے جب مکان بناکے دیا تو سامنے کے اس حصے میں باغیچہ بناکے دےدیا جوکہ تاحال موجود ہے، پڑوسیوں نے بھی اس حصے میں باغیچہ بنایا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس باغیچہ میں کوئی سبزی یا پھل وغیرہ اگا نا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر دو بھائی اور دو بہنیں ہوں، ایک بھائی اور ایک بہن غیر شادی شدہ ہو اورایک بھائی بہن شادی شدہ ہوں۔ غیر شادی شدہ بھائی کا انتقال ہوگیا تو اس بھائی کی وراثت کس کو ملے گی؟ برائے مہربانی صحیح رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک شخص ہے جس کے کوئی سگے بہن بھائی زندہ نہیں ہیں، ان کے بچے موجود ہیں، ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، ماموں، پھوپھی وغیرہ کوئی بھی نہیں ہے، بیوی ہے، اولاد نہیں ہے، تین بھائی اور دو بہنیں باپ شریک ہیں، اب اس کی وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کا انتقال ہوگیا، پسماندگان میں شوہر، خاتون کی ماں، پانچ بھائی اور دوبہنیں ہیں۔ خاتون کی ملکیت میں جو سونا اور پیسہ ہے اس کا حق دار کون ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک شخص کا گھر ہے، مالک کی زندگی میں اس کی اجازت کے ساتھ اس کے بیٹوں نے گھر میں کچھ کام کروایا، کچھ بیٹوں نے پیسے لگائے اور کچھ نے وقت لگایا، یہ سب بغیر کسی معاہدے اور لکھائی پڑھائی کےہوا، ۲۰۱۰ء میں یہ کام ہوا، ۲۰۱۲ء میں والد کا انتقال ہوگیا، اس وقت گھر کی تقسیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اب۲۰۲۰ء میں ترکہ تقسیم کرنا ہے، لیکن وہ حساب معلوم نہیں کہ کس نے کتنا اس گھر پہ خرچ کیا، تو رہنمائی فرمائیں کہ اس گھر کو بیچ کر سات آٹھ بہن بھائیوں میں اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
6،مارچ 2020ء کی رات کو ہمارے والد کی وفات ہوئی، شرعی اصول کے مطابق والد کی جائیداد کی تقسیم میں رہنمائی مطلوب ہے۔
1۔ ہمارے والد صاحب نے زمین فروخت کرکے اس کی رقم ایک کاروبار میں انویسٹ رکھی تھی اور ہماری والدہ کو نصیحت کی تھی کہ یہ رقم ہماری والدہ کے استعمال میں رہے گی جب تک ہماری والدہ حیات ہے اور ان کے بعد بچوں میں تقسیم ہوگی۔ شرعی اصول کے مطابق اس وصیت کی کیا حیثیت ہے؟ اگر رقم تقسیم ہوگی تو اس میں بچوں کا اور بیوی کا کتنا حصہ ہوگا؟
2۔ کیا اس رقم کی زکوۃ نکلتی ہے؟ کیونکہ اس رقم سے جو ماہانہ منافع آتا تھا وہ ان کے روز مرہ استعمال میں تھا۔
3۔ کیا اس رقم سے ہمارے والد کی قضا نماز اور روزوں کا فدیہ دیا جاسکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر دو بھائی اور دو بہنیں ہوں، ایک بھائی اور ایک بہن غیر شادی شدہ ہو اورایک بھائی بہن شادی شدہ ہوں۔ غیر شادی شدہ بھائی کا انتقال ہوگیا تو اس بھائی کی وراثت کس کو ملے گی؟ برائے مہربانی صحیح رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرے سسر کا انتقال بیس سال قبل ہوا، ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ ، ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ میرے سسر کا ایک مکان ہے جوکہ میری ساس نے سسر کے انتقال کے بعد اپنے تینوں بیٹوں کو ایک ایک پورشن دےدیے تھے، اب دوسال قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، میرے شوہر سے تین بچے ہیں، ایک بیٹی اور دو بیٹے۔ آٹھ ماہ قبل میرا نکاح ہوگیا، میرے شوہر کے پورشن سے جوکرایہ مل رہا تھا میرے سسرال والوں کا کہنا ہے کہ اب وہ نہیں ملے گا کیونکہ میں نے نکاح کرلیا ہے، میرے بچوں کا کوئی حق نہیں، جب گھر فروخت کردیا جائے گا تو حصہ مل جائے گا۔ اب آٹھ ماہ سے اسی پورشن کا کرایہ میری ساس لے رہی ہیں۔ اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ماں جہیز کا جو سامان اپنے ساتھ لاتی ہے تو ماں کے انتقال کے بعد اولاد کا اس پر حق ہوتا ہے یا نہیں؟