دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج كل نئے نئے فتنے برپا ہورہے ہىں، اس وجہ سے لوگوں كى رائے ىہ ہوگئى ہے كہ سود لىنا تو حرام ہے، لىكن سود دىنا حرام نہىں اوروہ اس پر قرآن كو حوالہ بناتے ہىں كہ قرآن مىں سود لىنےكے بارے مىں تو منع ہے، لىكن دىنے كے بارے مىں منع نہىں، اور اسى طرح اس حدىث كى طر ف بھى توجہ نہىں دىتے جس مىں سودكھانے، كھلانے اور اس كے لكھنے والے كے بارے مىں لعنت آئى ہے۔ آپ سے گزارش ہے كہ اس حوالے سے مىرى رہنمائى فرمائىں؟كىونكہ ىہ بات مىرے كچھ دوست كہتے ہىں اوروہ ان باتوں كو بنىاد بناكر ىہ بھى كہتے ہىں كہ اگر گھر ىا گاڑى وغىرہ خرىدنى ہوتو سود دىے بغىر كام نہىں ہوگا، اس لىے ضرورت كے وقت سود پر قرض لے سكتےہىں۔ كىا ان كى ىہ بات درست ہے؟ اگر درست نہىں، تومىں اپنے دوست،احباب كو كس طرىقے سےسمجھاؤں؟ اس كے بارے مىں رہنمائى فرمائىں؟ جزاك اللہ خىرا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اىك شخص نے ىہ نذرمانى كہ اگر مىرا بىٹا بىمارى سے صحت ىاب ہوگىا، تومىں اپنى اس مخصوص بھىنس كا چوتھا ہونے والا بچہ اللہ كى راہ مىں دوں گا، اب اس بھىنس نے مادہ اور نرىعنى مذكرو مؤنث كافى تعداد مىں بچے دىے ہىں، اب پوچھنا ىہ ہے كہ اس بھىنس كے كتنے بچوں مىں ىہ منت جارى ہوگى؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
دراز كے نام سےآن لائن شاپنگ كى اىك وىب سائٹ ہے، جس كو استعمال كرتے ہوئے كبھى كبھار غىر مناسب اشتہارات بھى آجاىا كرتے تھے، غالبا اب نہىں آتے، كچھ عرصہ پہلے جب مىں اس وىب سائٹ كو استعمال كررہاتھا تو مىں نے دل مىں ىہ وعدہ كرلىا كہ مىں اب اس كو استعمال نہىں كروں گا، اوراب مجھے اس كے استعمال كى ضرورت محسوس ہورہى ہے، لىكن پھر مجھے ىہ خىال آجاتا ہے كہ مىں نےتو دل مىں وعدہ كرلىا تھا، تو اب سوال ىہ ہے كہ اس وعدے كا كىا حكم ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ منت کا بذات خود کیا حکم ہے؟ اور کن حالات میں منت مانی جاسکتی ہے اور کن حالات میں نہیں مانی جاسکتی؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
بچپن میں اکثر جب نیا سال شروع ہونے لگتا تو ہم کہتے تھے آئندہ یہ کام کروں گا اور یہ کام نہیں کروں گا۔ لیکن پھر ان میں سے کچھ باتیں بھول جاتے اور کچھ کرتے نہیں تھے۔ اب جبکہ دین کی کچھ سمجھ آئی ہے، ان قسموں کا کفارہ کیسے دیا جاسکتا ہے اور کیا اس طرح قسمیں کھانا انگریزوں سے مشابہت تو نہیں ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
برائے مہربانی درج ذیل کے بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ کیا یہ درست ہے؟ اور کیا اس کے مطابق کیا سمندر سے نکلنے والی ہر چیز کھائی جاسکتی ہے؟ جیسے کیکڑا، جھینگا، شارک، آکٹوپس، کستورا مچھلی(Oyester)، سشی(Sushi)، وغیرہ
’’کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو سمندر سے نکلتی ہے اور صرف سمندر میں رہتی ہے، حلال ہے اور اس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے:’’تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے، تاکہ وہ تمہارے لیے اور قافلوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنے‘‘(المائدۃ:96)۔ مزید ایک حدیث سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے آپﷺ کے دور میں لوگ وہیل اور بڑی مچھلیاں کھایا کرتے تھے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اس سوال کا کثرت سے سامنا رہتا ہے کہ خواتین کے بال کٹوانے کے حوالہ سے احناف کے مفتی بہ قول کی نقلی دلیل کیا ہے؟ اگرچہ کوشش رہتی ہے کہ تقلید کی عافیت کو بیان کیا جائے مگر بعض اوقات بات کی وضاحت درکار ہوتی ہے۔ تو از راہ کرم اس موضوع کی نقلی دلیل کی طرف رہنمائی فرما دیجیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے مکان کے سامنے KMC کی ملکیت کی کچھ زمین ہے، جس پر تعمیر کا حق انہیں حاصل ہے، لیکن پچھلے تقریبا بیس سالوں سے کوئی تعمیرنہیں ہوئی، کنسٹرکشن کمپنی نے جب مکان بناکے دیا تو سامنے کے اس حصے میں باغیچہ بناکے دےدیا جوکہ تاحال موجود ہے، پڑوسیوں نے بھی اس حصے میں باغیچہ بنایا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس باغیچہ میں کوئی سبزی یا پھل وغیرہ اگا نا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر کسی کو زمین پر پڑی ایسی کوئی چیز ملے جس کا مالک معلوم نہ ہو تو اس کو کس مصرف میں لگا نا چاہیے؟ مثلا کسی کو روڈ سے پیسے ملتے ہیں توان پیسوں کو مسجد میں دیدے یا کسی غریب کو دیدے یا پھر اپنے استعمال میں لے آئے؟ ان کا اعلان بھی اگر کیا جائے تو کیسے کیا جائے کیونکہ پیسوں کے نمبر کس کو یاد ہوتے ہیں کہ وہ نشانی کے طور پر نمبربتائے؟