Jan
22
2021
آج كل نئے نئے فتنے برپا ہورہے ہىں، اس وجہ سے لوگوں كى رائے ىہ ہوگئى ہے كہ سود لىنا تو حرام ہے، لىكن سود دىنا حرام نہىں اوروہ اس پر قرآن كو حوالہ بناتے ہىں كہ قرآن مىں سود لىنےكے بارے مىں تو منع ہے، لىكن دىنے كے بارے مىں منع نہىں، اور اسى طرح اس حدىث كى طر ف بھى توجہ نہىں دىتے جس مىں سودكھانے، كھلانے اور اس كے لكھنے والے كے بارے مىں لعنت آئى ہے۔ آپ سے گزارش ہے كہ اس حوالے سے مىرى رہنمائى فرمائىں؟كىونكہ ىہ بات مىرے كچھ دوست كہتے ہىں اوروہ ان باتوں كو بنىاد بناكر ىہ بھى كہتے ہىں كہ اگر گھر ىا گاڑى وغىرہ خرىدنى ہوتو سود دىے بغىر كام نہىں ہوگا، اس لىے ضرورت كے وقت سود پر قرض لے سكتےہىں۔ كىا ان كى ىہ بات درست ہے؟ اگر درست نہىں، تومىں اپنے دوست،احباب كو كس طرىقے سےسمجھاؤں؟ اس كے بارے مىں رہنمائى فرمائىں؟ جزاك اللہ خىرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
مذكورہ صورت مىں لوگوں كا ىہ كہنا كہ سود لىنا تو حرام ہے، لىكن دىنا حرام نہىں، اس لىے سودى معاملہ كىا جاسكتاہے، ىہ بات بے بنىاد اورقرآن واحادىث سے نرى جہالت اورگمراہى كى علامت ہے۔ نىزىہ بھى واضح رہے كہ سود کی حرمت کامنکر کافراور جو حرام سمجھ کر اس بیماری میں مبتلا ہووہ فاسق اورمردود الشہادۃ ہے، یعنی اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ لہذاخىرخواہى كے جذبے سے اپنے دوست احباب كو ترغىب وترہىب كرىں، اورجس طرح ممكن ہو ان كو حکمت وبصىرت كےساتھ قرآن وحدىث كى طرف توجہ دلانے اور صحىح راہ پر لانےكى كوشش كرتےرہیں۔
سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، اللہ تعالى نے سود كھانے والوں كے بار ےمىں فرماىا: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(سورةالبقرة:۲۷۵) ترجمہ: ”جولوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو، ىہ ذلت آمیز عذاب اس لیے ہوگا کہ انھوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے؛ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع یعنی خرید وفروخت کو حلال کیا ہے اورسود کوحرام قرار دیا ہے“۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ(سورةالبقرة:۲۷۶) ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔
نىز سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کےرسول صلى اللہ علىہ وسلم کا اعلانِ جنگ ہے اورسود کو قرآنِ کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہےکہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے، جو سود کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کیے ہیں۔
چناں چہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ(۲۷۸)فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ(سورة البقرة:۲۷۹) ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاوٴ“۔
اسى طرح احادیث میں سودی معاملہ کرنےوالوں کےبارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
چناں چہ ایک روایت میں ہے: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»(صحيح مسلم،۳/ ۱۲۱۹) ترجمہ: ’’رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے اور سودی تحریر یا حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی ہےاور فرمایا کہ وہ لوگ گناہ میں برابر ہیں‘‘۔ نىزاسى طرح اور بھى بہت سى احادىث مباركہ مىں سودى معاملہ كرنے والوں كےبارے مىں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
سودى لىن دىن كا عمومى حكم تو ىہى ہے كہ سود لینا دینا دونوں حرام ہیں، اللہ تعالى سے جنگ كرنے كے مترادف ہیں، جىساكہ مذكورہ بالا آىات اور احادىثِ مباركہ سے واضح ہے۔ البتہ اضطراراور حد درجہ كى مجبورى كى حالت مىں جبكہ ہلاكتِ نفس كا خوف ہو جس طرح بقدرِ ضرورت مردار كھاكراپنى جان بچانے كى اجازت ہے، اسى طرح فقہاء نے اضطرار اور حد درجہ كى احتىاج اور شدىد مجبورى كى صورت مىں جب كہ قرض وغىرہ ملنے كى بھى امىد نہ ہوبقدرِ ضرورت سودى قرض لىنے كى اجازت دى ہے، ضرورت سے زىادہ لىنا درست نہىں، اور ىہ بات مكمل طور پر پىش ِنظررہنى چاہىے كہ سودى قرض لىنے كى اجازت حد درجہ كى مجبورى اور شدىد احتىاج كى صورت مىں ہے، زىب وزىنت اور اپنى خواہش پورى كرنے كو ضرورت اور احتىاج كا عنوان دىنا سخت دھوكہ دہى اور بے ہودہ تاوىل ہے۔ لہذاسود جو بنصِ قطعى حرام ہےاضطرار اورمجبورى ہى كى حالت مىں بقدرِ ضرورت اس كااستعمال جائز ہوگا، اور ىہ بھى شخصى و انفرادى حالت مىں كہ جو شخص اضطرار اور ضرورت مىں مبتلا ہو وہ اپنى شخصى حالت كسى مفتى ىا ماہر عالم كے سامنے پىش كرےاور اجازت ملنے پر بقدرِ ضرورت استعمال كرے۔ (فتاوى رحىمىہ، ۱۰/ ۲۲۹۔ تا۔۲۳۱)
(قوله ولا آكل الربا) لأنه متأكد التحريم وشرط في الأصل الشهرة في أكل الربا وكذا أكل من اشتهر بأكل الحرام فهو فاسق مردود الشهادة. (الجوهرة النيرة،۲/۲۳۱)
قوله ( أو يأكل الربا ) أي يأخذ القدر الزائد على ما يستحق لأنه من الكبائر فالمراد بالأكل الأخذ وإنما ذكره تبعا للآية الكريمة { الذين يأكلون الربا } البقرة ۲۷۵ وإنما ذكر في الآية لأنه أعظم منافع المال ولأن الربا شائع في المطعومات والمراد بالربا القدر الزائد لا الزيادة وهي المرادة في قوله تعالى { وحرم الربا } البقرة ۱۷۵ كما بيناه في بابه بحر. (حاشية ابن عابدين،۷/۱۵۹) الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامة أو خاصة... أشارت المادة بقولها: الحاجة تنزل منزلة الضرورة... إلخ إلى أن الضرورة وإن كانت أشد إلا أن الحاجة عامة كانت أو خاصة تنزل أيضا منزلتها في تجويز الممنوع شرعا. (شرح المجلة،١/٧٥)
الضرورات تبيح المحظورات، هذه قاعدة أصولية مأخوذة من النص، وهو قوله تعالى: «إلا ما اضطررتم إليه»، والاضطرار الحاجة الشديدة، والمحظور المنهي عن فعله يعني: أن الممنوع شرعًا يباح عند الضرورة... ثم هذه الرخصة ثلاثة أنواع: نوع هو مباح، كأكل مال الميتة والدم ولحم الخنزير وشرب الخمر عند المجاعة أو الغصة أو العطش أو عند الإكراه التام بقتل أو قطع عضو، فهذه الأشياء تباح عند الاضطرار؛ لقوله تعالى: «إلا ما اضطررتم إليه» أي: دعتكم شدة المجاعة إلى أكلها، والاستثناء من التحريم إباحة. (شرح المجلة، ١/ ٥٥)
{إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}
{فمن اضطر غير باع ولا عاد} أي من غير بغي ولا عدوان وهو مجاوزة الحد {فلا إثم عليه} أي في أكل ذلك. {إن الله غفور رحيم} قال مجاهد: {غير باغ ولا عاد} من خرج باغيا أو عاديا أو في معصية الله فلا رخصة له وإن اضطر إليه، وقال مقاتل بن حيان: {غير باغ} يعني غير مستحله، وقال السدي: {غير باغ} يبتغي فيه شهواته، وعن ابن عباس: لا يشبع منها وعنه: {غير باغ ولا عاد} قال: {غير باغ} في الميتة، ولا عاد في أكله، وقال قتادة: {فمن اضطر غير باغ ولا عاد} قال: غير باغ في الميتة أي في أكله أن يتعدى حلالا إلى حرام هو يجد عنه مندوحة، وحكى القرطبي عن مجاهد في قوله: {فمن اضطر} أي أكره على ذلك بغير اختياره. (مختصر تفسير ابن كثير،۱/ ۱۵۱)
وفي القنية والبغية، يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (الأشباه والنظائر،۱/۲۹۴)
قوله: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح، وذلك نحو أن يقترض عشرة دنانير مثلا، ويجعل لربها شيئا معلوما في كل يوم ربحا. (غمز عيون البصائر،۱/۲۹۴)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4686