Menu

Fatawaa

دل میں كسى كام كے نہ كرنے كا وعدہ كرنا

Jan 12 2021

دراز كے نام سےآن لائن شاپنگ كى اىك وىب سائٹ ہے، جس كو استعمال كرتے ہوئے كبھى كبھار غىر مناسب اشتہارات بھى آجاىا كرتے تھے، غالبا اب نہىں آتے، كچھ عرصہ پہلے جب مىں اس وىب سائٹ كو استعمال كررہاتھا تو مىں نے دل مىں ىہ وعدہ كرلىا كہ مىں اب اس كو استعمال نہىں كروں گا، اوراب مجھے اس كے استعمال كى ضرورت محسوس ہورہى ہے، لىكن پھر مجھے ىہ خىال آجاتا ہے كہ مىں نےتو دل مىں وعدہ كرلىا تھا، تو اب سوال ىہ ہے كہ اس وعدے  كا كىا حكم ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
اگر دل ہی دل میں ارادے کے طور پر کوئی وعدہ اللہ سے کرلیا زبان سے کچھ نہیں کہا، تو اس کے خلاف کرنے پر کوئی کفارہ نہیں ہے، لہذا صورت مذكورہ مىں وىب سائٹ استعمال كرنے سے آپ كے ذمے كفارہ وغىرہ لازم نہىں آئے گا۔
وركنها اللفظ المستعمل فيها، وشرطها العقل والبلوغ. (البحرالرائق،۴/۳۰۰)
وأما ركن اليمين بالله تعالى فهو اللفظ الذي يستعمل في اليمين بالله تعالى. (بدائع الصنائع،۶/۲۱۰)
العبرة بظاهر اللفظ العرفي الذي حلف به، لان الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض كما علم ذلك من كتاب الايمان، فراجعه. (قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار،۸/۶۶)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4656