Menu

Fatawaa

علم الاعداد

 کیا حروف ابجد کو ہی علم الاعداد کہا جاتا ہے کہ جس کی دین میں ممانعت ہے؟ اگر نہیں تو علم الاعداد سے کونسا علم مراد ہے؟ مزید یہ کی تسمیہ کی جگہ۷۸۶ کے عدد کا استعمال کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو کس حد تک اس کے استعمال کی گنجائش بنتی ہے؟

والد کے مکان کی تعمیر میں لگائی گئی رقم کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جس گھر میں ہم لوگ رہتے ہیں وہ والد محترم کے نام پر ہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے کچھ رقم گھر کی تعمیرات میں لگائی اور چاہت یہ ہے کہ ترکے کے وقت پہلے میری لگائی گئی رقم ادا کی جائے، تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟اگر چہ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا والد صاحب سے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی ہیں اور تعمیرات کے بعد جو مکان کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں میری جانب سے لگائے گئے پیسوں کا کیا تناسب ہوگا؟  واضح رہے کہ میں اپنی الگ نوکری کرتا ہوں۔ تعمیرات میں لگائی گئی رقم میں نے قرض لی تھی، جو کہ میں ہی ادا کروں گا، والد صاحب نہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

میت کی طرف سے قربانی کرنا

بعض حضرات کہتے ہیں کہ میت کے طرف سے قربانی جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے جو امت کے طرف سے قربانی کی تھی وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، محدثین کے اقوال سے اس پر دلیل دیتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قربانی کرنے والی روایت کو محدثین کے اقوال کی روشنی میں ضعیف کہتے ہیں۔ اس کی تحقیق بھیج دیں، کیا واقعی اسی طرح ہے؟ ان روایتوں کے خاص اور ضعیف ہونے کا کیا جواب ہوگا؟

مسئلہ طلاق

ہمارے علاقوں میں شوہر بعض دفعہ بیوی کے ساتھ لڑائی کے دوران اسے کہتاہے خاموش ہوجاؤ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس سے یقیناً ہمارے عرف میں مقصد استقبال ہوتا ہے نہ کہ حال، اور استقبال کا معنی غالب ہے، تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

قرض دار پر قربانی

Aug 22 2020
0
0
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ میرے پاس کمیٹی میں تقریبا ایک لاکھ پچاس ہزار جمع کیا ہوا ہے اور دو لاکھ ادھار ہے۔ مجھ پر قرض ہونے کی بناپر بھی قربانی واجب ہے یا نہیں جبکہ میرے پاس گزر بسر کا کوئی بندوبست بھی نہیں ہے۔ کیا مجھے ادھار لے کرقربانی کرنی ہوگی؟ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک واقعے کی تحقیق

Aug 22 2020
113
0
درج ذیل واقعے کی تصدیق درکار ہے:
’’حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔ ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرفا سے اظہار فرمایا۔یرفا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرفا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کے لئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟ چھوڑو یرفا، اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔ غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے،تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر ان کی وہیں ہوجائے گی۔ غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑا تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا۔ عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟ وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نہ لیں۔ غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ، پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے) فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔ مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرفا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے:’’اوہ یار یرفا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے، اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں، کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ، میں تو دعائیں مانگتا ہوں۔ اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔ میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا۔ اے اللہ میں جانور تھا، بےزبان تھا، 16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کے لیے، تو پھر یرفا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟‘‘ یرفا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“

قربانی کے جانور کے ہار وغیرہ کا مصرف

Aug 22 2020
0
0
 قربانی کے جانور کے گلے میں جو ہار وغیرہ ہوتے ہیں تو ان کا کیا حکم ہے؟ کیا انہیں صدقہ کرنا ضروری ہے؟ عام طور پر اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس حوالے سے وضاحت فرمائیں۔