Menu

Fatawaa

والد کے مکان کی تعمیر میں لگائی گئی رقم کا حکم

Sep 03 2020

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جس گھر میں ہم لوگ رہتے ہیں وہ والد محترم کے نام پر ہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے کچھ رقم گھر کی تعمیرات میں لگائی اور چاہت یہ ہے کہ ترکے کے وقت پہلے میری لگائی گئی رقم ادا کی جائے، تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟اگر چہ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا والد صاحب سے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی ہیں اور تعمیرات کے بعد جو مکان کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں میری جانب سے لگائے گئے پیسوں کا کیا تناسب ہوگا؟  واضح رہے کہ میں اپنی الگ نوکری کرتا ہوں۔ تعمیرات میں لگائی گئی رقم میں نے قرض لی تھی، جو کہ میں ہی ادا کروں گا، والد صاحب نہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
الجواب باسم ملهم الصواب
 صورت مسئولہ میں آپ نے اپنے والد کے گھر کی تعمیر میں جو  رقم لگائی ہے وہ چونکہ آپ کی ذاتی رقم ہے، یہ رقم والدصاحب کی اجازت سے تعمیراتی کام میں لگائی ہے اس لیے  یہ والد صاحب کے ذمہ قرض ہو گی اور جب بھی مکان فروخت ہو گا تو آپ اپنی لگائی ہوئی رقم واپس لینے کے حق دار ہوں گے مکان کی قیمت کے بڑھنے سے آپ کی لگائی ہوئی رقم میں اضافہ نہیں ہو گا۔
كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ(الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 6/ 747)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4485