دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایسے کاغذات یا لفافے جن پر یاد دہانی کے طور پر مسلمان بھائیوں کے نام تحریر کیے جاتے ہوں، کیااستعمال کے بعد مقدس حروف کو کاٹ کر یا مٹا کر ضائع کیے جاسکتے ہیں؟ نیز اخبارات پر موجود قرآنی آیات کا کیا حکم ہے؟ جزاك اللہ خىرا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
گھر میں بچے اگر لڈو کھیلتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے یا شریعت میں اس کی ممانعت ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کی چند روز بعد رخصتی ہے اور اسے بازوؤں اور ہاتهوں پر مہندی لگوانی ہے، جو کہ بالوں کے ہونے کی وجہ سے ٹهیک طرح سے نہیں لگتی، تو کیا وہ رخصتی کے دن کی خوشی میں اپنے ہاتهوں اور بازوؤں سے بال صاف کر سکتی ہے؟ جبکہ انہیں کسی نے بتایا ہے کہ عورت ہاتهوں اور بازوؤں کے بال نہیں اتار سکتی، اس سےشریعت منع کرتی ہے۔ اس کا جواب عنایت فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
عرض یہ ہےکہ ایک شخص سنت ”ختنہ“ کی خوشی میں دعوتِ طعام میں اپنے دوست واحباب عزیز و اقارب کو مدعو کرسکتا ہے، یا نہیں؟ جیسا کہ شادی وغیرہ میں ہوتا ہے، جواب قرآن و سنت کی روشنی عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جس طرح لوگ اپنے ملک کے لیے کرکٹ، ہاکی، فٹ بال وغیرہ کھیلتے ہیں، کیا اس طرح کمپیوٹر پر آن لائن گیمز کھیل سکتے ہیں؟ میرا مطلب انٹرنیشنل آن لائن گیمز چیمپئن شپ سے ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ حلال ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ايک غير شادى شده آدمى كوانتہائى غلبہ شہوت کى وجہ سے زنا ىا مشت زنى وغيره کى گنجائش ہوسكتى ہے ىا نہىں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا آسمانی کتاب انجیل میں شریعت نہیں تھی تو کیا اس کے آنے کے بعد توریت اور زبور منسوخ نہیں ہوئی تھی؟ اور بائبل سے مراد انجیل ہے یا انجیل اور توریت دونوں Old Testament and New testament سے مراد کونسی کتاب لی جاتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر كسى انسان نے قرآن پر ہاتھ ركھ كر قسم اٹھائى كہ وہ آئندہ یہ كام نہىں كرے گا اور چاہے نہ چاہے اس سے وہ كام دوبارہ ہوجائے یا وہ اپنى یہ قسم پورى نہ كرسكے اور اس سے دستبردار ہونا چاہے تو كیا كرے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا کسی بچی کا نام ’’اروٰی‘‘ رکھا جاسکتا ہے؟ ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ اروی ابولہب کی بیوی کا نام تھا۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
عرض ہے کہ ایک طریقہ ہمارے معاشرے میں عام ہوا ہے کہ جب بھی کسی بچے کی پیدائش ہو تو تمام دوست احباب کی زبان میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ بھائی مٹھائی کہاں ہے۔ اگر یہ عمل بروئے کار نہ لائے تو ان کی نظر میں مذموم کہلاتا ہے اورلوگ عار محسوس کرتے ہيں کیا اس امر کو بجالانا ہم پر ضروری ہے، جبکہ اس میں بعض کے مالی حالات درست نہیں ہوتے۔ شریعت مطہرہ کا اس بابت کیا حکم ہے؟