Jan
08
2021
عرض یہ ہےکہ ایک شخص سنت ”ختنہ“ کی خوشی میں دعوتِ طعام میں اپنے دوست واحباب عزیز و اقارب کو مدعو کرسکتا ہے، یا نہیں؟ جیسا کہ شادی وغیرہ میں ہوتا ہے، جواب قرآن و سنت کی روشنی عنایت فرمائیں۔
الجواب باسم ملهم الصواب
ختنہ سنتِ مؤکدہ ہے اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، لىكن ختنہ کی دعوت کرنا شریعت میں ثابت نہیں ہے، بلكہ ایک روایت کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس دعوت مىں جانےكے بارے مىں ناپسندیدہ ہونا بھی منقول ہے، چنانچہ مسند احمد مىں ہے: عن الحسن، قال: دعي عثمان بن أبي العاص إلى ختان، فأبى أن يجيب، فقيل له، فقال: «إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا ندعى له» (مسند أحمد مخرجا ،۲۹/ ۴۳۶) ترجمہ: ”حضرت عثما ن بن ابی العا ص رضى اللہ عنہ کو ختنہ كے كھانے کی دعوت دی گئی، تو انہوں نے شركت كرنے سے انكار كردىا، پھر کسی نے ان سے اس دعوت كے انكار كے بارے مىں سوال كىا، تو انہوں نے فرماىاكہ ہم رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم كےزمانے مىں اىسى دعوت پر نہىں جاتے تھے، اور نہ ہمىں اس كى دعوت دى جاتى تھى‘‘۔
اسى حدىث كو امام طحاوى رحمہ اللہ نے شرح مشكل الآثار مىں ذكركرنے كے بعد فرماىا: قال: فدل ذلك أن الذي كانوا يدعون إليه من الأطعمة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فما كانوا يأتونه على وجوب إتيانه عليهم إنما هو خاص من الأطعمة لا على كل الأطعمة، ولما كان طعام الوليمة مأمورا به كان من دعي إليه مأمورا بإتيانه, ولما كان ما سواه من الأطعمة غير مأمور به, كان غير مأمور بإتيانه. (شرح مشكل الآثار ،۸/۳۰)
كہ ىہ حدىث اس بات كى دلىل ہے كہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم كے زمانے مىں صحابہ كرام رضى اللہ عنہم ہر قسم كے كھانے كى دعوت پر نہىں جاتے تھے، بلكہ اگر كھانے كى خاص دعوت دى جاتى، مثلا ولىمہ وغىرہ كى دعوت توجاىا كرتے تھے، ورنہ نہىں، اور ختنہ کی دعوت ایسی دعوت ہے جس مىں شركت كرنا نبی اكرم صلى اللہ علىہ وسلم کے زمانے میں لازمى ىا ضرورى نہىں سمجھا جاتاتھا۔
لہذاختنہ كے موقع پر دعوت كو لازم وضرورى سمجھتے ہوئے اس كا اہتمام كرنا، بے جااسراف كرنا، تحفہ تحائف كا باقاعدہ لىن دىن كرنا ىہ مزاج شرىعت كے خلاف ہے اس سے بچنا لاز م ہے۔ البتہ لازم وضرورى سمجھے بغىر كسى بچے كے ختنہ كى خوشى مىں كچھ كھانے كا انتظام كرلىا، بعض قرىبى رشتہ داروں كو جمع كركے كھلادىا، تواس كى گنجائش ہے، لىكن اس كو باقاعدہ رسم نہ بناىا جائے كہ خاندان كے ہر بچہ كے ختنہ كے موقع پر دعوت كا اہتمام ہونے لگے۔
والأصل أن الختان سنۃ کما جاء فی الخبر وھو من شعائر الإسلام وخصائصہ فلو اجتمع أھل بلدۃ علی ترکہ حاربھم الإمام فلا یترک إلا لعذر (الدرالمختار،۶؍۷۵۱)
في البدائع ينبغي أن تجوز إذا كان أحدهم يرى الوليمة يؤيده ما في المبتغي من التنصيص على أنها سنة حيث قال الوليمة طعام العرس والخرس طعام الولادة والمأدبة طعام الختان والوكيرة طعام البناء(درر الحكام شرح غرر الأحكام،۱/ ۲۶۶)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4640