دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک خاتون کینسر کی مریض ہے، اس کے علاج پر ہر مہینے پچاس ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ اس کے تین بچے ہیں، بڑی بیٹی کی عمر پندرہ سال ہے۔ اس کے شوہر کی آمدنی پچیس ہزار ہے۔ اس کے پاس کوئی زیور نہیں، سوائے چھوٹی موٹی کیلیں یا لاکٹ کے۔ مریضہ کے باپ کے پاس دو دوکانیں ہیں، ایک پر وہ خود بیٹھ کر کماتے ہیں اور دوسری انہوں نے کرائے پر دے رکھی ہے۔ اور دو گھر ہیں، ایک میں وہ خود اوپر کے حصے میں رہتے ہیں اور نیچے مریضہ رہتی ہے، دوسرا فلیٹ ہے جو کرائے پر ہے اور اس فلیٹ میں مریضہ بھی 25 فیصد کی حصے دار ہے، یعنی مریضہ نے فلیٹ کی مد میں ۲۵ فیصد رقم ملائی تھی۔ جس وقت فلیٹ لیا تھا، اس کی قیمت تیس لاکھ تھی، تو انہوں نے تقریباً ساڑھے سات لاکھ ملائے تھے۔ اس فلیٹ کی کل مالیت پچیس سے تیس لاکھ روپے ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم سے اس کا علاج کرواسکتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا کسی غیر محرم کی آواز سننا گناہ ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ ایک خاتون کی جانب سے درج ذیل دلائل آئے ہیں، ان پر رہنمائی فرمادیں۔ جب آپ کسی دوکان پر جاتے ہیں کچھ خریدنے اور وہاں کوئی خاتون بیچ رہی ہوتی ہیں، تو کیا آپ ان سے بات نہیں کرتے، جب آپ اپنی کسی خاتون رشتے دار سے ملتے ہیں اور وہ رشتہ دار محرم نہیں ہوتیں تو کیا آپ ان سے بات نہیں کرتے، کیا آپ انہیں خوش آمدید نہیں کہتے، کیا آپ ان سے اُنکا حال نہیں پوچھتے۔ دین کا مدار آرا پر نہیں ہے۔کوئی صحیح عالم یہ نہیں کہے گا کہ یہ حرام ہے، کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ یہ حرام نہیں ہے، میں آپ کو بتاتی ہوں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مردوں کو پڑھایا کرتی تھیں اپنی آواز سے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی بات سنا کرتے تھے۔ سنن ابن ماجہ میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف فرما رہی تھیں، وہ ایسے الفاظ کہہ رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ان میں بیان ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کوئی گناہ کی بات کرتے سنتے تو کیا وہ ان کو نہیں روکتے، بالکل روکتے، کیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ خواتین کی آواز کو سننا گناہ نہیں ہے۔ تو جو کوئی کہتا ہے کہ وہ گناہ ہے وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ وہ اجماع کے خلاف جا رہا ہے مسلمان علماء کے۔ کیونکہ میں نے آپ کو بتایا کہ یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار خواتین کی آواز کو سنا ہے اگر یہ گناہ ہوتا یا پھر خواتین کی آواز بھی عورة ہوتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں خاموش نہیں رہتے۔ جو لوگ اس کو حرام کہتے ہیں وہ عالم نہیں ہیں چاہے اس ملک میں ہوں چاہے کسی اور ملک میں۔ ہم اہل سنت والجماعت کے علماء کی پیروی کرتے ہیں ان کی نہیں جو اپنی آرا سے باتیں کرتے ہیں۔آپ کو چاہیے کہ دو کلمے شہادت کے کہیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے۔ کیوں کہ جو یہ کہتا ہے کہ خواتین کی آواز سننا گناہ ہے، وہ اجماع کے خلاف کر رہا ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1: درود ِتُنْجیینا کی فضیلت کیا ہے؟ کیا حاجتیں پوری کرنے کے لیے پڑھ سکتے ہیں، کوئ خاص تعداد معین کر کے پڑھنا چاہیے؟ یا چلتے پھرتے وضو بے وضو بھی پڑھ سکتے ہیں؟
سوال نمبر2: دعائے جمیلہ،سات سلام،اور سات حٰم انکی فضیلت کیا ہے؟ کسی خاص مقصد کا سوچ کر ہی پڑھے جا سکتے ہیں یا کبھی کبھی بغیر کسی مقصد کے بھی پڑھ سکتے ہیں؟ نیز کیا کوئی خاص تعداد مخصوص کر کے پڑھنا چاہیے؟
سوال نمبر3: طلاق کے بعد لڑکی کی دوسری شادی کے لیے کوئی خاص دعا بتا دیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
براہ مہربانی درج ذیل حدیث کا ریفرنس بھیج دیں۔
’’ایک بار جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم کے پاس آئے تو محمد ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل کچھ پریشان ہیں، آپ ﷺنے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپ کو غم زدہ دیکھ رہاہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کر کے آیا ہوں، اس کو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاؤ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا جہنم کے کل سات درجے ہیں، ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا، اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کو ڈالیں گے، اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے،چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے، تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے، دوسرے درجے میں اللہ تعالیٰ عسائیوں کو ڈالیں گے، یہ کہ کر جبرائیل علیہ السلام خاموش ہوگئے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے، مجھے بتاؤ کہ پہلے درجے میں کون ہوگا؟ جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپ کی امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے، جب نبی کریم ﷺ نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جائےگا تو آپ بھی بےحد غمگین ہوئے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کیں، تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کر کے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے۔ صحابہ کرام حیران تھے کہ نبی کریم ﷺ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے، مسجد سے حجرے جاتے ہیں، گھر بھی تشریف لے کر نہیں جارہے، جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پر آئے اور دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا، آپ روتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہٰذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے، آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ عنہ سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شخصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نہیں جانا چاہیئے، بلکہ مجھے ان کی نور نظر بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر بھیجنا چاہیے، لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئیں ابا جان السلام علیکم! بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا، اباجان آپ پرکیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرماہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جائے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنی امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جارہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کر رہاہوں کہ اللہ ان کو معاف کر اورجہنم سے بری کر، یہ کہ کر آپ ﷺ پھر سجدے میں چلےگئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گنہگاروں پہ رحم کر ان کو جہنم سے آزاد کر ،کہ اتنے میں حکم آگیا ’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاؤگے، آپﷺ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگو ں اللہ نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا گھر ہے جسے میں کرایہ پر دینا چاہتا ہوں، کیا بینک میں ملازمت کرنے والے شخص کو دے سکتا ہوں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
غیر مسلموں کی عبادت گاہیں مسلم حکومت عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ رقم سے بنا کر دے گی، اس کی مثال سوائے پاکستان کے دنیا میں کہیں مل سکتی ہے؟ اور کیا یہ کسی اعتبار سے بھی جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارے ایک ٹیچر کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، جب لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی لازم نہیں ہے، لوگوں نے خود سے لازم بنالیا ہے، اور اسی طرح کی بات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
نماز میں وہ کونسی چیزیں ہیں کہ اگر وہ رہ جائیں تو نماز نہیں ہوتی، نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟ اسی طرح وہ کونسی چیزیں ہیں جن کے رہ جانے سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے، سجدہ سہو کرنے سے نماز ہوجائے گی؟ نیز وہ کون سی چیزیں ہیں کہ اگر وہ نماز میں رہ بھی جائیں تو نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا نماز ہوجاتی ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مرغی کے انڈے کے اوپر بہت گندگی اور ناپاکی لگی ہوتی ہے۔ دکاندار اس کو ہاتھ لگا کر بہت سی چیزوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کیا اب وہ باقی چیزیں بھی ناپاک ہو گئیں ، اب جب وہ چیزیں گھر آئیں گی تو کیا ان کو پاک کر کے استعمال کرنا ہو گا؟ دوسرا ضمنی سوال یہ ہے کہ تھوڑا بہت پانی سے دھونے سےانڈوں کی گندگی مکمل صاف نہیں ہوتی۔ جب اس کو توڑتے ہیں تو تھوڑی بہت غلاظت اندر جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ کیا اس کو مکمل صاف کر کے(یعنی اس گندگی کا ایک نشان بھی باقی نہ رہے) اس کو کھانا چاہیے یا تھوڑا بہت گند جانے سے فرق نہیں پڑتا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: حدیث شریف میں آتا ہے ’’الدین النصیحة‘‘ ترجمہ: دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے، اس سے آگے ہے: ’’لله‘‘ اللہ کےلیے۔ تو کیا اس طرح ترجمہ درست ہے’’دین اللہ کےلیے خیر خواہی کا نام ہے‘‘ صحیح ترجمہ اور تشریح کیا ہوگی؟
سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے انسان کی روح پھونکے جانے کے بعد اس کا شقی ہونا یا سعید ہونا لکھ دیا جاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
سوال نمبر۳: تیسرا سوال یہ ہے کہ اسی دوسری حدیث میں ہے کہ بندہ عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ نوشتہ تقدیر اس پر غالب آجاتا ہے، اس کی کیا تشریح ہے؟