دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا ایک پورشن ہے جس کا اسٹرکچر بنا ہوا ہے، اس کی فنیشنگ پہ کوئی بارہ لاکھ کا خرچہ ہوگا۔ اگر ہم بارہ لاکھ کا کوئی انویسٹر ڈھونڈتے ہیں اور مکان تیار ہوجاتا ہےتو کرایہ پر دیتے ہیں، اس میں سے آدھا ہمارا اور آدھا انویسٹر کا ہوگا۔ اور اگر کرایہ دار مکان خالی کرتا ہے تو انویسٹر کو کرایہ نہیں ملے گا۔ اور جب نیا کرایہ دار آتا ہے تو مزید کچھ خرچہ کرنا پڑتا ہے، اس میں بھی ہم دونوں کا خرچہ برابر ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ اور کیا یہ سود تو نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1: حیدر آباد میں یہ ٹرینڈ چل رہا ہے کہ جب مکان کرائے پر اس طرح لے رہے ہیں کہ اس کو ایڈوانس دے دیے، ایک لاکھ، دو لاکھ یا دس لاکھ، جتنے بھی دینے ہیں، اب وہ کرایہ نہیں دے گا، بلکہ صرف بجلی پانی کے بل وغیرہ بھرے گا، یعنی ایڈوانس اتنا زیادہ دے دیا کہ اب کرایہ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟
سوال نمبر2: اگر کسی کی کوئی فیکٹری یا دوکان ہو اور اس کو کچھ رقم کی ضرورت ہو یا نہ بھی ہو اور اسے کوئی رشتے دار وغیرہ رقم دے دے کہ اسے اپنے بزنس میں لگالو اور اس کے بدلے مجھے نوکری پر رکھ لو اور تنخواہ مجھے زیادہ دینا۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟
واضح رہے کہ نوکری کے بدلے جو رقم ادا کی جارہی ہے وہ رقم قرض ہوتی ہے جو بعد میں واپس ادا کی جاتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا گھر ہے جسے میں کرایہ پر دینا چاہتا ہوں، کیا بینک میں ملازمت کرنے والے شخص کو دے سکتا ہوں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک شخص کے پاس گابھن بکری ہے جو دودھ بھی دیتی ہے، ایک دوسرا شخص اس سے بکری دودھ کی غرض سے اس شرط پر لے جاتا ہے کہ جب دودھ ختم ہو گا تو بچہ جننے سے پہلے ہی بکری واپس کر دوں گا۔ بلا معاوضہ یہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟ اور اگر بکری کا مالک ماہانہ کچھ رقم مقرر کر لے جو دودھ پینے والا، بکری کے مالک کو ادا کرے گا تب یہ معاملہ کیسا ہے نیز کیا کسی حدیث میں جانور دودھ پر دینے کا ثواب بیان کیا گیا ہے ؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
جو گھر زیادہ ایڈوانس یعنی فکسڈ پر لیتے ہیں جس کا کرایہ انتہائی کم ہوتا ہےاور ہر سال ایگریمنٹ بدلاجاتا ہے، کرایہ بڑھایا جاتا ہے، ایسا گھر لینا جائز ہے؟ اس سے پہلے جو پگڑی سسٹم ہوتا تھا بس ایک بندے نے زیادہ رقم دے کر زندگی بھر کرایہ نہیں بڑھایا مالک کی مرضی سے کیا یہ جائز عمل ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا فرماتے ہیں علما ءکرام اس بارے میں کہ آج کل جو حضرات کیٹل فارمنگ کررہے ہیں، وہ اپنے کاروبار میں جب کسی دوسرے شخص کے مال سے جانور شامل کرتے ہیں تو ان سے یہ معاہدہ طے کرتے ہیں کہ اس جانور سے پیدا ہونے والا ایک بچہ وہ خود رکھیں گے اور اس کے عوض ماہانہ جانور پر ہونے والے اخراجات وصول نہیں کریں گے ۔ اس طرح کا کاروباری معاہدہ درست ہے یا نہیں ۔ اس طرح کے کاروباری معاملہ میں بہتر معاہدہ کیا ہونا چاہئے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیرا
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک ادارے نے ایک شخص کے پاس کچھ رقم رکھوائی، نو دس ماہ تک ادارے کو اس رقم کی ضرورت نہیں تو اس صورت میں کیا وہ شخص اس رقم کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے؟ وہ شخص اتنی استطاعت رکھتا ہے کہ مدت پوری ہونے پر اتنی رقم ادارے کو حوالہ کرے تو کیا پھر بھی وہی رقم رکھنا اور وہی رقم ادا کرنا ضروری ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا بکرا فارم بنانے کا ارادہ ہے قربانی اور عام ضروریات کے لیے بکریاں پالیں گے اور خرید و فروخت بھی کریں گے۔ بلڈنگ،بکریوں کی قیمت اور چارہ ہمارے ذمے ہے البتہ ایک لڑکا، جانوروں کی دیکھ بھال اور چارہ ڈالنے کا کام کرے گا۔ اس کے ساتھ معاملہ یوں ہے کہ فی الوقت اس کو منافع میں سے حصہ دیں گے البتہ بعد میں جب کاروبار سیٹ ہو جائے گا تو ارادہ ہے کہ منافع کے ساتھ ماہوار تنخواہ بھی اس کی لگا دیں گے، لڑکے کی رہائش اور کھانا ہمارے ذمے ہو گا۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتاہوں اور بلڈنگ کی مینٹینس کمیٹی کا حصّہ ہوں۔ بلڈنگ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ہمیں فنڈز درکار ہوتے ہیں، جو کہ رہائشی کمیٹی کے لیے طے شدہ ضابطے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ بروقت فنڈز کی وصولی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسے رہائشی جو بروقت رقم ادا نہیں کرتے یا نہیں کرپاتے ان سے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی رقم بلڈنگ ہی کی انتظامی معاملات میں خرچ ہو تی ہے،کسی تنخواہ کی مد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جرمانہ لینا درست ہے؟ اگر جرمانہ عائد نہ کیا جائےتو رہائشی وقت پر ادائیگی نہیں کرتے جس کی وجہ سے شدید مالی بحران کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتاہوں اور بلڈنگ کی مینٹینس کمیٹی کا حصّہ ہوں۔ بلڈنگ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ہمیں فنڈز درکار ہوتے ہیں، جو کہ رہائشی کمیٹی کے لیے طے شدہ ضابطے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ بروقت فنڈز کی وصولی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسے رہائشی جو بروقت رقم ادا نہیں کرتے یا نہیں کرپاتے ان سے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی رقم بلڈنگ ہی کی انتظامی معاملات میں خرچ ہو تی ہے،کسی تنخواہ کی مد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جرمانہ لینا درست ہے؟ اگر جرمانہ عائد نہ کیا جائےتو رہائشی وقت پر ادائیگی نہیں کرتے جس کی وجہ سے شدید مالی بحران کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔ جزاک اللہ