دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مىرے شوہر pharma (دواء سازكمپنى) مىں ماركىٹنگ پروڈكٹ مىنىجر ہىں، جو ڈاكٹرز كے لىے كمپنى كى طرف سے پروڈكٹ كى سىل بڑھانے كے لىےكمپنى events (تقرىبات) اور ان كے لىے تحائف وغىرہ كا بھى بندوبست كرتے ہىں، تو كىا ىہ تحائف وغىرہ دىنا رشوت ہے؟ كىا ماركىٹنگ كى نوكرى كرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللّہ خیرا۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
كوئى شخص اپنے پىسوں سے كاروبار كرتاہےاور پھر دوسرے لوگوں كےشىئرز کی رقم بھى اس مىں شامل كرلىتا ہے، اور شرط ىہ ركھتا ہے كہ نفع ونقصان مىں سب شركاء برابر ہىں، جس كا جتنا سرماىہ ہوگا اسى حساب سےاس كو نفع ملے گا، اور اگر نقصان ہوا، تو سب كو اپنے حصوں كے اعتبار سے نقصان بھى برداشت كرنا ہوگا، اورمحنت صرف اىك شخص ہى كرے گا، جبكہ اس كے كچھ ملازم بھى ہوں گے، تو اس طرح شركت مىں حصہ لىنا اسلامى شرىعت مىں كىسا ہے؟ برائے مہربانی مىرى رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
تقرىبا بىس سال پہلے مىں نے اسٹىٹ لائف انشورنس كى پالىسى لى، لىنے كى وجہ ىہ تھى كہ مىرى پرائىوٹ نوكرى تھى، جس مىں كو ئى پىنشن ىا گرىجوٹى نہىں تھى، تو مىرا خىال ىہ تھا كہ وقت كے ساتھ ساتھ بچت ہوتى رہے گى اور آخر مىں اىك بڑى رقم بن جائے گى، تو استعمال مىں آجائے گى۔
اور اسٹىٹ لائف كى پالىسى لىتے وقت مىں نے اس كے بارے مىں معلومات لى تھى، تو مىرا علم ىہ تھا كہ اگر اس مىں فكس منافع ہو تو سود ہوتا ہے، ورنہ نہىں، اور اس وقت وہ فكس نہىں تھا، بلكہ متغىر تھا، اور نہ مىں نے ان كو قرض دىا، بلكہ پىسے كاروبار مىں انوىسٹ كے لىے دىے، كىا ىہ ركھنا صحىح ہے، ىا اس کو ختم كردىنا چاہىے، اگر رخصت كى كوئى صورت ہوجائے تو اچھى بات ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
دو مختصر سوالات درپیش ہیں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
1۔ اگر کسی نے کہیں کمیٹی ڈالی اور اپنا نمبر کسی دوسرے ممبر کو جس کا نمبر بعد میں آنا تھا، کچھ پیسوں کے عوض فروخت کر دیا، تو کیا کمیٹی فروخت کرنے کا عمل جائز ہے؟ اور اگر کسی کو جلدی کمیٹی کی اشد ضرورت ہے تو کیا وہ کمیٹی کچھ پیسوں کے عوض خرید سکتا ہے؟
2۔ دوسرا یہ کہ شادی بیاہ یا مکان کی تعمیر کے معاملات میں بینک سے قرضہ لینا جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج كل جیم، رتن، رجنی، ون ٹو ون کے نام سے گٹکے کی طرح چھالیا آتی ہے۔ یہ کمپنیاں گٹکے کی قسم کی چھالیا بناتی ہیں لیکن ٹیکس نہیں بھرتیں اور چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا بیٹا ڈاکٹر ہے، اس کی گڈاب کے ایک ہسپتال میں سرکاری نوکری ہے، وہاں چوں کہ مریض بہت کم آتے ہیں اور تین چار ڈاکٹر ہیں اس لیے ڈیوٹی ہفتے میں تین یا چار دن ہوتی ہے۔ وہاں ایک چپڑاسی کی ضرورت ہے لیکن ہسپتال والوں نے نہیں رکھا ہوا۔ البتہ وہاں کے جو بڑے ہیں انہوں نے ڈاکٹرز سے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر پیون کی تنخواہ، جو کہ دس ہزار ہے، اداکرے گا، اسے نوکری سے مزید سہولت مل جائے گی اور پھر اسے صرف دو دن ہی آنا ہوگا۔ میرے بیٹے کو امتحانات کی تیاری بھی کرنی ہے تو کیا وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے کہ پیون رکھ کر اس کی تنخواہ ادا کرے اور بدلے میں نوکری کا ایک دن کم ہوجائے؟ وہاں چوں کہ مریض کم آتے ہیں اس لیے ان کا نقصان ہونے کا بھی اندیشہ نہیں۔ برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم عرصہ ایک سال سے forex Expert Adviser Tradingکر رہے ہیں اور ہم جس بروکر کے ساتھ کام کررہے ہیں اس کا نام Bitkryptonہے۔ اس میں ہم Invistmentدیتے ہیں اور وہ اسے مختلف چیزوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ مثلاً Silver, Gold, Criud,Oilاور مختلف ممالک کی کرنسز میں ہماراپیسہ Distributeکردیتا ہے اور اس میں Tradکرکے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر نفع دیتا ہے۔ نفع کی جو شرح ہے وہ مکمل انویسٹمنٹ کا 0.50% دیتاہے۔ نفع ہفتہ میں 5 دن ملتا ہے ہفتہ اور اتوار مارکیٹ بند ہوتی ہے۔ بروز پیر سے جمعرات نفع کی شرح Same. 0.50% ہوتی ہے اور جمعہ والے دن مارکیٹ بہت زیادہ Up اور Down ہوتی ہے۔ جمعہ والے دن نفع کی شرح0.50% سے بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نفع کی شرح فکس نہیں ہے۔ بروکر کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عرصہ 730دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ہمیں ماہانہ کی بنیاد پر نفع کی شرح 9% تا14تک دیتا ہے۔ بروکر جو کہ یہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہماری اصل انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہیں کرتا ہے جبکہ صرف ہمیں نفع کی رقم وصول ہوتی ہے۔ کیا یہ کاروبار اسلام کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمیں ملنے والا منافع سود تو نہیں ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا ایک پورشن ہے جس کا اسٹرکچر بنا ہوا ہے، اس کی فنیشنگ پہ کوئی بارہ لاکھ کا خرچہ ہوگا۔ اگر ہم بارہ لاکھ کا کوئی انویسٹر ڈھونڈتے ہیں اور مکان تیار ہوجاتا ہےتو کرایہ پر دیتے ہیں، اس میں سے آدھا ہمارا اور آدھا انویسٹر کا ہوگا۔ اور اگر کرایہ دار مکان خالی کرتا ہے تو انویسٹر کو کرایہ نہیں ملے گا۔ اور جب نیا کرایہ دار آتا ہے تو مزید کچھ خرچہ کرنا پڑتا ہے، اس میں بھی ہم دونوں کا خرچہ برابر ہوتا ہے۔ کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ اور کیا یہ سود تو نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عزیز نے کچھ سالوں قبل تفسیر کا ایک مکمل سیٹ عنایت کیا تھا۔ کیا اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1: حیدر آباد میں یہ ٹرینڈ چل رہا ہے کہ جب مکان کرائے پر اس طرح لے رہے ہیں کہ اس کو ایڈوانس دے دیے، ایک لاکھ، دو لاکھ یا دس لاکھ، جتنے بھی دینے ہیں، اب وہ کرایہ نہیں دے گا، بلکہ صرف بجلی پانی کے بل وغیرہ بھرے گا، یعنی ایڈوانس اتنا زیادہ دے دیا کہ اب کرایہ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟
سوال نمبر2: اگر کسی کی کوئی فیکٹری یا دوکان ہو اور اس کو کچھ رقم کی ضرورت ہو یا نہ بھی ہو اور اسے کوئی رشتے دار وغیرہ رقم دے دے کہ اسے اپنے بزنس میں لگالو اور اس کے بدلے مجھے نوکری پر رکھ لو اور تنخواہ مجھے زیادہ دینا۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟
واضح رہے کہ نوکری کے بدلے جو رقم ادا کی جارہی ہے وہ رقم قرض ہوتی ہے جو بعد میں واپس ادا کی جاتی ہے۔