Dec
30
2020
كوئى شخص اپنے پىسوں سے كاروبار كرتاہےاور پھر دوسرے لوگوں كےشىئرز کی رقم بھى اس مىں شامل كرلىتا ہے، اور شرط ىہ ركھتا ہے كہ نفع ونقصان مىں سب شركاء برابر ہىں، جس كا جتنا سرماىہ ہوگا اسى حساب سےاس كو نفع ملے گا، اور اگر نقصان ہوا، تو سب كو اپنے حصوں كے اعتبار سے نقصان بھى برداشت كرنا ہوگا، اورمحنت صرف اىك شخص ہى كرے گا، جبكہ اس كے كچھ ملازم بھى ہوں گے، تو اس طرح شركت مىں حصہ لىنا اسلامى شرىعت مىں كىسا ہے؟ برائے مہربانی مىرى رہنمائی فرمائیں۔
الجواب باسم ملهم الصواب
اس شرط كے ساتھ شركت كا معاملہ كرنا شرعا درست ہے كہ سب كو ملنے والا نفع كاروبار مىں نفع حاصل ہونے كى صورت مىں ملے گا اور اسى طرح اگر خسارہ ہوجائے توخسارہ كو تمام شركاء پر بقدر سرماىہ ڈالا جائے گا، نىز شركت كى اہم شرائط مىں اىك شرط ىہ بھى ضرورى ہے كہ جوشخص صرف رقم سے شرىك ہو عمل اس كےذمے نہ ہو تو منافع مىں اس كا حصہ سرماىہ كے تناسب سے زىادہ متعىن كرنا درست نہىں۔
نىز مذكورہ شرائط كے علاوہ کچھ اہم شرائط درج ذیل ہیں:
(۱) دونوں کو ملنے والانفع، کاروبار میں نفع حاصل ہونے کی صورت پر موقوف ہو یعنی اگر کاروبار میں نفع ہوا تو دونوں کو آپس مىں مقرر کردہ تناسب سے نفع ملے گا اور اگر کوئی نفع نہ ہوا تو دونوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
(۲) نفع متعىن كركے شراكت دارى كرنا شرعا ممنوع ہے ىعنى كاروبار مىں رقم لگا كر نفع كو متعىن كردىنا مثلا ىہ كہنا كہ ہر مہىنے ىا اتنى مدت بعد مجھے نفع كے طور پر اتنى رقم دى جائے۔
(۳) شركت کے عقد مىں فرىقىن مىں ہر اىك كو ىہ حق حاصل ہے كہ عقد ِ شركت جس وقت چاہے ختم كردے۔
نىز معاہدہ تحرىرى ہونا چاہئے، جس مىں تمام حقوق اور ذمے دارىوں كى مكمل وضاحت ہو، اور معاہدے مىں كسى قسم كا كوئى ابہام نہ ہو جوكہ آگے چل كر فرىقىن مىں باہمى نزاع اور جھگڑے كا باعث بن سكتا ہو۔ نىز بہتر ہے كہ گواہوں كى موجودگى مىں نفع نقصان، ادائىگى رقم كى تارىخ اور دىگر اہم امور لكھ لىے جائىں۔ مذکورہ بالا تمام باتوں کے علاوہ ان تمام امور کا شرعی احکام کے مطابق خیال رکھنا جو عملی طور پر شركت کے معاملات میں مختلف حالات اور مواقع پر پیش آتے ہوں۔
(قوله: وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه)وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح وقال زفر والشافعي: لايجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثاً فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان؛ إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل، ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان؛ فيستحق بقدر الملك في الأصل.
ولنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة، وقد يكون أحدهما أحذق وأهدى أو أكثر عملاً فلايرضى بالمساواة؛ فمست الحاجة إلى التفاضل. قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة، ومن المضاربة أيضاً إلى قرض باشتراطه للعامل، أو إلى بضاعة باشتراطه لرب المال، وهذا العقد يشبه المضاربة من حيث أنه يعمل في مال الشريك ويشبه الشركة اسماً وعملاً فإنهما يعملان معاً، فعملنا بشبه المضاربة وقلنا: يصح اشتراط الربح من غير ضمان وبشبه الشركة حتى لاتبطل باشتراط العمل عليهما. وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملا (البحرالرائق،۵/۱۸۸)
المادة(۱۳۷۰) إذا شرط الشريكان تقسيم الربح بينهما بنسبة مقدار رأس مالهما سواء كان رأس مالهما متساويا أو متفاضلا صح , ويقسم الربح بينهما بنسبة رأس مالهما على الوجه الذي شرطاه سواء شرط عمل الاثنين أو شرط عمل واحد منهما فقط فيكون رأس مال الآخر في يده في حكم البضاعة. (مجلة الأحكام العدلية،ص: ۲۶۲)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4605