Menu

Fatawaa

All Posts Term: معیشت وتجارت
36 post(s) found

کسی اور کے پاسپورٹ پر کاروبار کرنا

 درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟
’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘ 


سود کا مسئلہ

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سونار کے ساتھ بکنگ کی جس وقت سونے کی پرائز کم تھی اور کچھ پیسے بھی ادا کیے اور ساتھ یہ بھی طے ہواگیا کہ میں اسے قسطوں پہ ادا کروں گا اور پرائز پرانی ہی لگے گی، میں سال سے ڈیڑھ سال کے دوران اس کو پیسے ادا کرکے جو پرائز طے ہوئی تھی اس وقت کی وہ دوں گا۔ کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ 


جرمانے اور بیعانے کا حکم

مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:
۱۔ ایک کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز زید کے پاس ہیں اور پچاس فیصد بکر کے پاس ہیں،  دونوں میں یہ طے پایا  کہ کمپنی  میں شرکت کا معاملہ ختم کرتے ہوئے کوئی بھی ایک پارٹی کمپنی کی مکمل ملکیت حاصل کر لے اور اس کے لیے ضابطہ یہ مقرر کر دیا گیا کہ کمپنی کی ملکیت کا حقدار صرف وہی ہوگا جو شیئرز کی زیادہ سے زیادہ بولی دے گا ، جس کے اصول وضوابط بھی طے کرلیے گئے۔ اب زید فی شیئر سو روپے کی بولی دے کر جیت جاتا ہے جس کے بعد اس کے پاس ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ 
۲۔لیکن  کسی وجہ سے زید اس خریداری سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ ڈیل نہیں اٹھاسکتا تو جرمانے یا کسی بھی طور پر بکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ زید کے پاس موجود حصص دس فیصد کم رقم مثلا نوے روپے میں خرید لے اور اسے بھی اس رقم کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دس فیصد کم کرنا شرعاً جائز ہے؟
۳۔ اب اگر بکر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی رقم نہیں ہے اور میں یہ نہیں اٹھاسکتا تو سوال  یہ ہے کہ آغاز میں بولی جیتنے والی پارٹی زید نے جو دس فیصد بیعانہ دیا تھا جس پر وہ سو روپے میں خریدنے کا حقدار ہو گیا تھا تو کیا بکر اس بیعانے کو لوٹانے کا ذمہ دار ہے یا پھر بکر کے لیے یہ بیعانے کی رقم خود رکھ لینا بھی جائز ہے؟برائے مہربانی اس معاہدے کی تفصیلات کے متعلق شرعی حکم ذکر کر دیں۔


سونے کے بدلہ میں سونا دینا

ہمارا سونے کا کاروبار ہے، لوگ ہمیں سونے سے بنی ہوئی چیزیں دیتے ہیں اور ہم انہیں ان کے خالص سونے کے بقدر جتنا سونا بنتا ہے دیتے ہیں مثلا ہمیں وہ دو گرام سونےکی چیز دیتے ہیں جس کا خالص ڈیڑھ گرام ہوتا ہے تو ہم انہیں ڈیڑھ گرام سونا دیتے ہیں تو کیا یہ کاروبار اس طریقے سے جائز ہے؟


ایک ادارے کے ملازم کا دوسرے ادارے کےلیے کام کرنا

اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری ادارے مثلاً بجلی، گیس، انکم و سیلز ٹیکس، کسٹم، ہسپتال (ڈاکٹرز) ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ کے اکثر ملازمین الا ماشاءالله سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے وابستہ سائلین کے لئے ایجنٹ کا کام کرتے ہیں یا پھر شام کے اوقات میں اسی ادارے سے متعلق مسائل کے حل کےلیے خدمات دینے کےلیے اپنا دفتر بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ان خدمات کے عوض سائلین سے تھوڑی یا زیادہ رقم بھی وصول کرتے ہیں اور اپنے ادارے سے بھی مکمل تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ملازمت میں رہتے ہوئے ادارے کا ملازم اپنی آمدنی بڑھانے کےلیے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ اگر ان کاموں سے حاصل رقم صحیح نہیں اور اب کوئی اپنی اصلاح کر لے تو اس کےلیے کیا ہدایات ہیں؟ گزارش ہے مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔


قادیانی سے اپنی رقم وصول کرنے کےلیے کوئی معاملہ کرنا

ایک مسلمان کے ایک قادیانی کے ساتھ تعلقات تھے اور پراپرٹی کا کاروبار بھی مشترکہ تھا حالانکہ اس شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز نہیں۔اور اس قادیانی نے مسلمان کو دھوکہ دےکر بہت زیادہ رقم لے لی، بعد میں اس مسلمان کو یہ معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین جائز نہیں ۔ اب یہ مسلمان ایک فیکٹری لگانا چاہتا ہے جس میں وہ قادیانی بھی ان کو رقم دینے کو تیار ہے اور یہ مسلمان چاہتا ہے کہ اس قادیانی سے کسی طریقے سے اپنی رقم وصول کر لے، تو کیا اس کے ساتھ صرف اس غرض سے لین دین کرنا تاکہ اپنی رقم اس سے کسی طریقے سے وصول کر لیں (اور اور رقم بھی بہت زیادہ ہے) یہ جائز ہے یا نہیں ؟


کسی دوسرے کو کام میں لگانے پر کمیشن لینا

میرا ایک دوست لوگوں سے انویسٹمنٹ لے كر كاروبار کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر تم کسی کو اس کام میں لگاؤگے تو تمہیں بھی آخر میں کمیشن ملے گا۔ میں نے ایک دوست کو اس کام میں لگایا تو اب جو مجھے کمیشن ملے گا کیا مجھے اپنے دوست کو بتانا ضروری ہوگا کہ آپ کو اس کام میں لگانے کی وجہ سے یہ کمیشن مل رہا ہے؟