Apr
22
2020
!میں یہ جاننا چاہتا ہوں کیا اثاثہ جات قسطوں پر لیے جاسکتے ہیں، جیسا کہ گاڑی، گھر، گھریلو سامان، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر وغیرہ؟ قرآن وحدیث کے حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں۔
الجواب باسم ملہم الصواب
قسطوں پر خریدو فروخت اگر مندرجہ ذیل پانچ شرائط کے ساتھ کی جائے تو جائزہے ۔
۱۔مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا ۔
۲۔یہ بات طے کرلی جائے کہ کل کتنی قیمت ہوگی اور کتنی قسطوں میں ادائیگی مکمل ہو گی۔
۳۔ کسی قسط کی تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ مشروط نہ ہو۔
۴۔وقت مقررہ سے پہلے ادائیگی مکمل ہونے کی صورت میں قیمت میں کمی نہ ہوگی۔
۵۔خریدنےوالا مبیع پر قبضہ کر لے اور ملکیت بھی منتقل کردی جائے۔
وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد ؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد(المبسوط للسرخسی،کتاب البیوع، باب البيوع الفاسدة)
واللہ اعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4270