دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا آن لائن ٹریڈنگ(آئی کیو آپشن) درست ہے نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا یہ بات درست ہے کہ ’’کمرشل بینک کے ملازم یا ایسے افراد جن کی آمدنی کے بارے میں معلوم ہو کہ جائز نہیں ان کو اگر کوئی دوکاندار اپنی چیز فروخت کرے، یا سروسز دینے والا اپنی سروس فراہم کرے مثلاً ڈاکٹر، وکیل، مکنیک وغیرہ تو وہ اس ملازم سے لی ہوئی رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کر دے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کیوں؟ جبکہ دوکاندار جو چیز فروخت کرتا ہے اس سے حاصل ہونے والی رقم دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے قیمتِ خرید اور منافع۔ اصل رقم رکھ کر اسے صرف اپنا منافع صدقہ کرنا چاہیے۔ قیمت خرید بھی صدقہ کیا تو نقصان ہو گا اور گاہک کو انکار بھی نہیں کیا جا سکتا اسی طرح ڈاکٹر، وکیل، مکنیک وغیرہ کے سروسز دینے پر بھی کچھ کاسٹ تو آتی ہے مثلاً آفس کا کرایہ، بل بجلی وغیرہ۔وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟
’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص پر زمین فروخت کی اور حوالہ نہیں دیا اور رہن کے طور پر ان کو دوکان دی اور کہا کہ اگر فلاں تاریخ کو میں نے زمین حوالہ نہیں کی تو یہ دوکان آپ کی ہوگی، اس طرح خرید اور فروخت جائز ہے ؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہمارا سونے کا کاروبار ہے، لوگ ہمیں سونے سے بنی ہوئی چیزیں دیتے ہیں اور ہم انہیں ان کے خالص سونے کے بقدر جتنا سونا بنتا ہے دیتے ہیں مثلا ہمیں وہ دو گرام سونےکی چیز دیتے ہیں جس کا خالص ڈیڑھ گرام ہوتا ہے تو ہم انہیں ڈیڑھ گرام سونا دیتے ہیں تو کیا یہ کاروبار اس طریقے سے جائز ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
!میں یہ جاننا چاہتا ہوں کیا اثاثہ جات قسطوں پر لیے جاسکتے ہیں، جیسا کہ گاڑی، گھر، گھریلو سامان، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر وغیرہ؟ قرآن وحدیث کے حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال:السلام علیکم! پراپرٹی ڈیلر ایک پارٹی سے ایک پلاٹ کا سودا کرتا ہے ایک کروڑ میں اور رقم کی ادائیگی ایک ماہ بعد کرنی ہے، جبکہ اس کے پاس صرف ایک لاکھ روپے موجود ہیں جو وہ بیعانہ دیتا ہے۔ اسی ایک ماہ کے دوران وہ یہ پلاٹ کسی دوسرے فرد کو ایک کروڑ بیس لاکھ میں بیچ دیتا ہے اور رقم کی ادائیگی اس سے کروا کر بیس لاکھ کا پرافٹ کما لیتا ہے۔ کیا یہ پرافٹ جائز ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال:السلام علیکم! مورڈ گيج كے بارے ميں بتائيے كيا يه صحيح هے؟کینیڈا میں گھر خریدنا چونکہ مشکل ہوتا ہے اس لیے حکومت کی طرف سے مورڈ گیج کی صورت میں ایک آسانی فراہم کی گئی ہےاور كچھ حضرات سے سنا هے كه اگر ایک گھر لیا جائے مورڈ گیج کے ذریعے سے تو یہ جائز ہے۔ آپ رہنمائی فرمادیجیے۔