دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری کاسمیٹکس کی دوکان ہے، کاروبار میں wax strips (بال صفا بٹى، جس سے عورتىں بال صاف كرتى ہىں) eye lashes (مصنوعى پلكىں) اور artificial nails (مصنوعى ناخن)بھی گاہک کی جانب سے طلب کیے جاتے ہیں۔کیا ان کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے؟
واضح رہے کہ ناخنوں كى خرىد وفروخت عورتوں كے تزیین وآرائش كى غرض سے كى جاتى ہے، جىسے كوئى عورت اپنے شوہر كى خاطر زىنت كے طور پر نقلى پلكىں اور ناخن لگائے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا سوال یہ ہے كہ میں بینك سے قرض لینا چاہتا ہوں، اور دوسرا سوال یہ كہ اگر میں بینك سے گاڑى لینا چاہوں، تو كیا بینك سے قرض یا گاڑى لینا جائز ہے؟ اس كے بارے كیا حكم ہے؟ جزاك اللہ خىراً۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آج كل جیم، رتن، رجنی، ون ٹو ون کے نام سے گٹکے کی طرح چھالیا آتی ہے۔ یہ کمپنیاں گٹکے کی قسم کی چھالیا بناتی ہیں لیکن ٹیکس نہیں بھرتیں اور چھپ چھپا کر بیچی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ہم عرصہ ایک سال سے forex Expert Adviser Tradingکر رہے ہیں اور ہم جس بروکر کے ساتھ کام کررہے ہیں اس کا نام Bitkryptonہے۔ اس میں ہم Invistmentدیتے ہیں اور وہ اسے مختلف چیزوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ مثلاً Silver, Gold, Criud,Oilاور مختلف ممالک کی کرنسز میں ہماراپیسہ Distributeکردیتا ہے اور اس میں Tradکرکے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر نفع دیتا ہے۔ نفع کی جو شرح ہے وہ مکمل انویسٹمنٹ کا 0.50% دیتاہے۔ نفع ہفتہ میں 5 دن ملتا ہے ہفتہ اور اتوار مارکیٹ بند ہوتی ہے۔ بروز پیر سے جمعرات نفع کی شرح Same. 0.50% ہوتی ہے اور جمعہ والے دن مارکیٹ بہت زیادہ Up اور Down ہوتی ہے۔ جمعہ والے دن نفع کی شرح0.50% سے بڑھ بھی سکتی ہے اور کم بھی ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ نفع کی شرح فکس نہیں ہے۔ بروکر کے ساتھ ہمارا جو معاہدہ ہوتا ہے وہ عرصہ 730دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ہمیں ماہانہ کی بنیاد پر نفع کی شرح 9% تا14تک دیتا ہے۔ بروکر جو کہ یہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد ہماری اصل انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہیں کرتا ہے جبکہ صرف ہمیں نفع کی رقم وصول ہوتی ہے۔ کیا یہ کاروبار اسلام کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمیں ملنے والا منافع سود تو نہیں ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عزیز نے کچھ سالوں قبل تفسیر کا ایک مکمل سیٹ عنایت کیا تھا۔ کیا اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک دو منزلہ مکان جس کے کاغذات مجموعہ مکان پر مشتمل ہوں، اس کی دونوں منزلیں علیحدہ علیحدہ بیچی جاسکتی ہیں؟ اور کیا مشتری ایک منزل فوری خرید کر دوسری منزل کو اجارے پر حاصل کر کے مستقبل میں رقم کی دستیابی کی صورت میں یہ دوسری منزل بھی خرید سکتا ہے؟ اور کیا پہلی منزل آج کی مارکیٹ ویلیو پر اور دوسری منزل وقت بیع کے مارکیٹ ریٹ پر خرید سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آن لائن ڈراپ شپنگ کے بارے میں رہنمائی کردیں کہ کیا شرعی طور پر یہ حلال کاروبار ہے؟
آن لائن ڈراپ شپنگ بزنس میں مال قبضے میں نہیں لیا جاتا اور پروڈکٹ کی ویب سائٹ پر ساری معلومات دی جاتی ہیں اور جب آرڈر آتا ہے تو مینوفیکچرر سے رابطہ کر کے وہ پروڈکٹ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا ایک مڈل مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں تین باتیں بہت اہم ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ مال قبضے میں نہیں ہوتا۔
2۔ جب آرڈر آتا ہے تو پروڈکٹ خریدنے کے بعد مینوفیکچرر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدار کے پتے پر بھیج دے۔
3۔ آرڈر ملنے سے پہلے مینوفیکچرر کے ساتھ ڈراپ شپنگ ایجنٹ کا یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ مینوفیکچرر کی پروڈکٹ پرافٹ رکھ کر آگے سیل کرے گا، یعنی جو بھی قیمت مینوفیکچرر نے بتائی ہے اس پر پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ ایجنٹ پروڈکٹ کو قبضے میں لیے بغیر اگر خریدار کو سیل کرتا ہے، پھر جو آرڈر آتا ہے تو ڈراپ شپر پروڈکٹ خرید کر مینوفیکچرر کے ذریعے وہ پروڈکٹ ڈیلیور کرتا ہے۔ یہ بات مینوفیکچرر کو پتا ہوتی ہے مگر خریدار سے یہ بات چھپی ہوتی ہے۔
کیا یہ بزنس شرعی طور پر حلال ہے؟ کیوں کہ اس کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اگر کوئی بندہ کسی کے لیے کوئی سامان لائے اور اس کی قیمت سو روپے بنتی ہو اور اگر یہ اس شخص کو بتائے بغیر اس سے ایک سو بیس روپے لے لے تو کیا یہ صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
غیر مسلم ممالک (دارالکفر) میں ہوٹل، مکڈونلڈ، کے ایف سی، پیزا ہٹ اور برگر بنانے والی کمپنیاں اپنا کھانا لوگوں کو مہیا کرنے کے لیے کئی افراد کو ملازم رکھتے ہیں یہ ملازم نہ کھانا بناتے ہیں، نہ ہی کھاتے ہیں اور نہ ہی مالک ہیں ان کا کام صرف یہ کھانا لوگوں تک پہنچانے کا ہے۔ اس کھانے میں مختلف طرح کی قباحتیں ہوتی ہیں۔ جیسے کھانا پہنچانے میں حرام گوشت ہوتا ہے یہاں تک کہ سور کا گوشت بھی ہوتا ہے۔ مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری سی فوڈ بھی ہوتا ہے۔ کئی ہوٹلوں کے آرڈر کے ساتھ ڈرنکس ہوتے ہیں بسا اوقات شراب بھی ہوتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کچھ کمپنیاں اپنے مال کو انشورڈ کروالیتی ہیں مثلا دھاگا بنانے والی کمپنی اپنا خام مال انشورڈ کروالیتی ہے اب اگر خدانخواستہ روئی میں آگ لگ جاتی ہے تو انشورنس کمپنی سے اپنا کلیم لے لیتی ہے اور جو جلی ہوئی روئی ہے وہ انشورنس کمپنی کی ملکیت بن جاتا ہے، پھر انشورنس کمپنی مارکیٹ میں اسے فروخت کردیتی ہے، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو انشورڈ کروایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جس مال کو مارکیٹ فروخت کرتی ہے اس کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں؟