Dec
09
2020
میرا سوال یہ ہے كہ میں بینك سے قرض لینا چاہتا ہوں، اور دوسرا سوال یہ كہ اگر میں بینك سے گاڑى لینا چاہوں، تو كیا بینك سے قرض یا گاڑى لینا جائز ہے؟ اس كے بارے كیا حكم ہے؟ جزاك اللہ خىراً۔
الجواب باسم ملهم الصواب
مروجہ سودی بینک جو مختلف کاموں کے لیے قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے، جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ لہذامذكورہ صورت مىں بینك سے قرض لینا یا گاڑى لینا جائز نہیں، اس لیے آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ بىنك سےسودی قرضہ وغىرہ لینے کے بجائے کوئی دوسرا جائز متبادل راستہ اختیار کریں۔
مطلب : كل قرض جر نفعا حرام (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه. (رد المحتار،٧/٤١٣)
قال ط: قلت: والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدارهم، وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعني المنع، والله تعالى أعلم اهـ. (قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار،۷/ ۴۱)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4614