Menu

Fatawaa

کسی کےلیے سامان لاکراسے اضافی قیمت کے ساتھ دینا

Oct 12 2020

اگر کوئی بندہ کسی کے لیے کوئی سامان لائے اور اس کی قیمت سو روپے بنتی ہو اور اگر یہ اس شخص  کو بتائے بغیر اس سے ایک سو بیس روپے لے لے تو  کیا یہ صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔
الجواب باسم ملهم الصواب
سامان لانے والا شخص پہلے شخص کا وکیل ہوتا ہے، اور وکیل اجرت کا مستحق تب ہوتا ہے جب اجرت طے کی جائے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر پہلے سے دونوں نے کوئی اجرت طے نہیں کی تو وکیل کے لیے سو روپے سے زائد رقم وصول کرنا جائز نہیں۔
المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام، المادة: 1463)
وكذلك إن اشترى بها مأكولا ونقدها لم يحل أن يأكل ذلك قبل أداء الضمان. (الفتاوى الهندية، كتاب الوديعة، الباب الرابع)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4331