Menu

Fatawaa

All Posts Term: خریدو فروخت
22 post(s) found

غیر مسلم ممالک میں ٹیکس چوری کی شرعی حیثیت

سوال:السلام علیکم! میں کراچی میں ایک (buying house) چلاتا ہوں (ایک ملک کی مارکیٹ سے بیرون ملک مقیم لوگوں کے لئے چیزیں خرید کربرآمد کرنے کا ادارہ)، اور لوگوں کے آرڈر پورے کرکے بھجوانے پر مجھے  کمیشن ملتا ہے۔امریکہ میں میرا گاہک انڈر انوائسنگ کرتا ہے (زیادہ مالیت کی اشیاء کی قیمت کم ظاہر کرتا ہے تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے)، اور جو کچھ ٹیکس میں بچت ہوتی ہے اس سے وہ میرا کمیشن دیتا ہے۔  جب ہم نے یہ کاروبار شروع کیا تھا، تو میں نے ہی اس کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا، جو کہ میری غلطی تھی۔براہ کرم میری  رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ رقم استعمال کی جاسکتی ہے، اور کیا اسے حلال آمدنی شمار کیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ کام ایک غیر مسلم ریاست میں ہو رہا ہے؟اگر یہ  غلط ہے تو کیا اس رقم کو صدقہ میں دیا جاسکتا ہے، یا  یہ رقم  لینامکمل طور پرناجائز ہے ؟

امید ہے کہ اوپر کئے گئے سوالات واضح ہیں۔


کریڈٹ کارڈ کاشرعی حکم

السلام علیکم! میرے والد صاحب کا سودی بینک میں کریڈٹ کارڈ اکاؤنٹ ہے ۔وہ اپنے واجبات ہر مہینہ مقررہ تاریخ سے پہلے جمع کرواتے ہیں ۔ لہذا سود ادا نہیں کرنا پڑتا (میں پھر بھی اس کو پسند نہیں کرتا)انہیں بینک کی طرف سے کارڈ استعمال کرنے پر تحفتاً پوائنٹس ملتے ہیں جنہیں خریداری کے وقت یا پیٹرول بھرواتے وقت استعمال کرسکتے ہیں ۔

سوال نمبر 1:کیا مقررہ تاریخ سے پہلے واجبات ادا کرنے اور سود سے بچنے کی صورت میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز ہے ؟

سوال نمبر 2:کیا بینک کی طرف سے تحفتاً دیے گئے پوائنٹس جائز ہیں ؟

جواب نمبر 3:اگر میرے والد یہ پوائنٹس کسی کو تحفتا ً دے دیں تو کیا اس شخص کے لئے یہ جائز ہوں گے ؟