دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کورونا کی وبا کے بعد جبکہ حکومت کی جانب سے SOPs پر مکمل عمل درامد کے بعد مساجد میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے، الحمدللہ۔ مگر ہمارے ادارے جہاں میں نوکری کرتا ہوں ، وہاں پر تمام ملازمین کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانے پر پابندی ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ آپ دفتر میں ہی جمعہ کی نماز پڑھ لیں یا پڑھا لیں۔ اگر آپ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد گئے تو نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کی جانب سے نرمی کی گئی مگر ایک نجی ادارہ اپنے ملازمین کے ایسا حکم نامہ جاری کرےتو ہم کیا کریں؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نماز جمعہ دفتر میں ہی ادا کرسکتے ہیں جبکہ دفتر میں موجود ایک ساتھی جو با شرع ہیں، نماز جمعہ کا خطبہ بھی وہ پڑھ سکتے ہیں اور باجماعت نماز اور خصوصاً نماز جمعہ کے مسائل کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایسا کرکٹ ٹورنامنٹ جس میں شریک ہونے کے لیے ہر ٹیم کو کچھ رقم منتظم کے پاس جمع کرانی پڑتی ہے۔ اس جمع شدہ رقم سے میچ کے اخراجات کیے جاتے ہیں جیسے بال، ٹیپ وغیرہ، اور جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی کا انعام بھی اسی جمع شدہ رقم میں سے دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کا ٹورنامنٹ جوے کی تعریف میں داخل ہوتا ہے یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ٹک ٹاک ایپ کا استعمال کیسا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک قادیانی شخص جو نبوت کا دعویدار بھی تھا، اسے ایک مسلم بھائی نے دعویٰ نبوت کی سزا کے طور پر قتل کر دیا، کیا اسلام ایسے قتل کو جائز قرار دیتا ہے؟ یا ایسے دعویدار کا قتل و سزا حکومت کی ذمہ داری ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عرب شیخ نے لکھا ہے کہ ’’تقریباً نو مہینے پہلے مجھ سے پب جی گیم (PUBG) کے متعلق پوچھا گیا تھا تو میں نے اس کی حرمت کا فتوی دیا تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ یہ بہت سی برائیوں کا ذریعہ ہے۔ پھر مجھے اس کے نئے اپ ڈیٹ ورژن کے متعلق پتہ چلا جس میں بتوں کی تعظیم کی جاتی ہے اور یہ بت نفع کے بھی مالک ہیں، نیز اس میں یہ بھی ہے کہ جو ان بتوں کی تعظیم کرے گا وہ طاقت ور اسلحہ حاصل کرسکے گا۔ یہ تو ظلم عظیم اور شرک اکبر ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس گیم سے بچ کر رہے اور اپنی آل واولاد کو بھی اس سے دور رکھے۔‘‘
درج بالا فتویٰ کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات صحیح ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا دنیا کی تعلیم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے؟ کیونکہ اگر دنیا کی تعلیم نہیں ہوگی علاج کیسے ہوگا، ملک کی حفاظت کےلیے جدید اسلحہ کیسے بنےگا، ملک کی معیشت کےلیے یہ ضروری ہے، ورنہ مسلم ملک دوسرے ملکوں کے سہارے پر ہوجائیں گےاور ان کی پالیسی ماننی پڑجائے گی، اس کے علاوہ بھی اللہ نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ کشتیوں میں جاؤ، سمندر کے اندر سے سامان نکالو، یہ بغیر ٹیکنالوجی کے کیسے ممکن ہے؟ اس طرح تو مسلمان دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟
’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
پی ایس ایل کے مقابلے میدان میں جاکر دیکھنا اور ٹی وی چینل پر اس کی نشریات دیکھنا جائز تفریحات میں شامل ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہمارا دین تو ہمیں بعض جائز تفریحات کی اجازت دیتا ہے۔