Menu

Fatawaa

All Posts Term: فرق باطلہ
8 post(s) found

سلیمانی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے سنی بیٹے سے نکاح

محترم مفتی صاحب میرا ایک رشتہ آیا ہے۔ ان کے گھر میں والد سلیمانی اور والدہ سنی ہیں۔ بچے بچپن سے والدہ ہی کے مذہب پر ہیں۔ ان لوگوں کے بقول سلیمانی بھی سنی ہی کی طرح ہیں، بس فرق یہ ہے کہ وہ عید وغیرہ سنیوں سے ایک دن قبل کرتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ قبل اس مسئلے کی وجہ سے اور دیگر مسائل کی وجہ سے والدین میں علیحدگی بھی ہوچکی ہے اور بچے سنی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رشتہ قبول کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہاں شادی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

سیاہ کپڑے پہننا

درج ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے: 
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’سیاہ کپڑے مت پہنا کرو، کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے‘‘۔  (من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق)


آغاخانیوں کا حکم

Jul 30 2020
6
0
آغا خانیوں کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کے ساتھ کھانا کھاسکتے ہیں اور کیا ان کے گھر کا کھانا کھاسکتے ہیں؟ ہمارے آفس میں پچاس فیصد آغاخانی ہیں، یہ نہ نماز پڑھتے ہیں، نہ روزہ رکھتے ہیں اور نہ ہی پردے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے عقائد پر روشنی ڈالیے۔ 

مسلمان کےلیے بوہریوں کا جماعت خانہ تعمیر کرنا

May 15 2020
8
0
 ہمارے ایک دوست کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اب انہیں بوہریوں کے ہاں کام مل رہا ہے، ان کا جماعت خانہ تعمیر کرنا ہے تو کیا کسی مسلمان کے لیے بوہر یوں کا جماعت خانہ تعمیر کرنا صحیح ہے؟

دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا تعلق

میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ 
میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔ 
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟ 

مسلم اور غیر مسلم کے مشترکہ چندے سے مسجد کے اخراجات کی ادائیگی

ایک بلڈنگ ہے جس میں مسلم اور بہت سے غیر مسلم ہندو، کرسچن، شیعہ، آغانی وغیرہ رہتے ہیں، اس بلڈنگ کے نیچے مسلمانوں نے مسجد بنائی ہوئی ہے، اپارٹمنٹ انتظامیہ مسجد کے انتظامی اخراجات کے لیے تمام لوگوں (مسلمانوں اور غیر مسلموں) سے چندہ جمع کرتی ہے اور پھر سب کے مشترکہ جمع شدہ چندے سے مسجد کے اخراجات اور امام کی تنخواہ وغیرہ کی ادائیگی کرتی ہے۔ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ مفصل مدلل جواب عنایت فرمائیے۔


قادیانی سے اپنی رقم وصول کرنے کےلیے کوئی معاملہ کرنا

ایک مسلمان کے ایک قادیانی کے ساتھ تعلقات تھے اور پراپرٹی کا کاروبار بھی مشترکہ تھا حالانکہ اس شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز نہیں۔اور اس قادیانی نے مسلمان کو دھوکہ دےکر بہت زیادہ رقم لے لی، بعد میں اس مسلمان کو یہ معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین جائز نہیں ۔ اب یہ مسلمان ایک فیکٹری لگانا چاہتا ہے جس میں وہ قادیانی بھی ان کو رقم دینے کو تیار ہے اور یہ مسلمان چاہتا ہے کہ اس قادیانی سے کسی طریقے سے اپنی رقم وصول کر لے، تو کیا اس کے ساتھ صرف اس غرض سے لین دین کرنا تاکہ اپنی رقم اس سے کسی طریقے سے وصول کر لیں (اور اور رقم بھی بہت زیادہ ہے) یہ جائز ہے یا نہیں ؟