دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میری دادی نے کچھ پیسے قومی بچت بینک میں رکھوائے ہوئے ہیں، اس بینک سے ان کے پاس ہر ماہ منافع آتا ہے۔ میری دادی بیوہ ہیں، جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دادا کی پنشن سے بھی کچھ رقم ان کے پاس آتی ہے، کیا یہ رقم جو قومی بچت بینک سے حاصل کی گئی ہے، حلال ہے یا حرام؟ کیا یہ رقم صرف اس شخص کےلیے حرام ہے جس کے نام پر قومی بچت بینک میں اکاؤنٹ بناہوا ہے یا سب کے لیے؟ مثلا اگر دادی رقم حاصل کرکے اپنی اولاد کو دےدیں جس سے ان کے معاملات زندگی بحال ہوجائیں یا مدد ہوجائے یا اپنے گھر والوں کےلیے فرنیچر دلوادیں یاکسی کو مدد کی نیت سے دےدیں تو کیا یہ رقم وصول کرنے والے پر بھی حرام ہوگی؟اس رقم سے اگر وہ گھر کےلیے راشن دلوادیں تو کیا گھر کے باقی افراد کے لیے بھی یہ حرام ہوگا؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری ادارے مثلاً بجلی، گیس، انکم و سیلز ٹیکس، کسٹم، ہسپتال (ڈاکٹرز) ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ کے اکثر ملازمین الا ماشاءالله سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اسی ادارے سے وابستہ سائلین کے لئے ایجنٹ کا کام کرتے ہیں یا پھر شام کے اوقات میں اسی ادارے سے متعلق مسائل کے حل کےلیے خدمات دینے کےلیے اپنا دفتر بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ان خدمات کے عوض سائلین سے تھوڑی یا زیادہ رقم بھی وصول کرتے ہیں اور اپنے ادارے سے بھی مکمل تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں جبکہ پاکستانی قانون کے مطابق ملازمت میں رہتے ہوئے ادارے کا ملازم اپنی آمدنی بڑھانے کےلیے دوسرا کوئی کام نہیں کر سکتا تو پھر اس طرح سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں کیا حکم شرعی ہے؟ اگر ان کاموں سے حاصل رقم صحیح نہیں اور اب کوئی اپنی اصلاح کر لے تو اس کےلیے کیا ہدایات ہیں؟ گزارش ہے مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال: السلام علیکم! ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی جاز کی طرف سےمخلتف پیکیجزملتے ہیں ان میں کوئی قباحت تو نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال:السلام علیکم! میں کراچی میں ایک (buying house) چلاتا ہوں (ایک ملک کی مارکیٹ سے بیرون ملک مقیم لوگوں کے لئے چیزیں خرید کربرآمد کرنے کا ادارہ)، اور لوگوں کے آرڈر پورے کرکے بھجوانے پر مجھے کمیشن ملتا ہے۔امریکہ میں میرا گاہک انڈر انوائسنگ کرتا ہے (زیادہ مالیت کی اشیاء کی قیمت کم ظاہر کرتا ہے تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے)، اور جو کچھ ٹیکس میں بچت ہوتی ہے اس سے وہ میرا کمیشن دیتا ہے۔ جب ہم نے یہ کاروبار شروع کیا تھا، تو میں نے ہی اس کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا، جو کہ میری غلطی تھی۔براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ رقم استعمال کی جاسکتی ہے، اور کیا اسے حلال آمدنی شمار کیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ کام ایک غیر مسلم ریاست میں ہو رہا ہے؟اگر یہ غلط ہے تو کیا اس رقم کو صدقہ میں دیا جاسکتا ہے، یا یہ رقم لینامکمل طور پرناجائز ہے ؟
امید ہے کہ اوپر کئے گئے سوالات واضح ہیں۔