Nov
22
2019
سوال: السلام علیکم! ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی جاز کی طرف سےمخلتف پیکیجزملتے ہیں ان میں کوئی قباحت تو نہیں؟
الجواب باسم ملهم الصواب
أحمدہ و أصلي علی رسوله الكریم ، أما بعد:
جاز كمپني كي طرف سے اپنے صارفين كے ليے مختلف سهوليات متعارف كرائي گئي هيں ، اس سب كا حكم ایک جیسا نہیں۔ مختصرا کچھ وضاحت درج ذیل ہے:
1۔ کمپنی اپنی سم استعمال کرنے والے صارفین کو غیر مشروط طور پر کبھی کبھار کچھ فری منٹس وغیرہ کی صورت میں جو سہولیات دیتی ہے یہ کمپنی کی طرف سے انعام ہے، اس لیے ان کا وصول کرنا جائز ہے۔
2۔ اسی طرح کچھ متعین پیکج وغیرہ بھی ہوتے ہیں مثلا سو روپے میں 150 منٹ ایک محدود مدت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال بھی جائز ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ کمپنی کی سہولیات کو متعین رقم کے بدلے میں خریدنے کے حکم میں ہے۔
3۔ موبائل اکاؤنٹ کھولنے کے بدلے میں سو یا دو سو روپے کا بیلنس یا اضافی سہولیات وغیرہ دی جاتی ہیں۔ ان کا استعمال ناجائز ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ قرض کے بدلے میں منفعت کے حصول کا ہے۔ ان سہولیات کے حصول کے لیے موبائل اکاؤنٹ کھولنا بھی جائز نہیں۔
4۔ اپنے موبائل اکاؤنٹ میں متعین مقدار میں رقم رکھنے پر اضافی منٹس اور میسجز وغیرہ کی صورت میں سہولیات دیتی ہے ان کا حصول بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ معاملہ بھی قرض کے بدلے میں نفع حاصل کرنے کا ہے۔
نوٹ: جن صورتوں میں کمپنی کی طرف سے دی گئی سہولیات حاصل کرنا جائز نہیں، اگر کمپنی کا اکاؤنٹ کھولتے ہوئے ان سہولیات کے حصول کی نیت نہ ہو تو اکاؤنٹ کھولنا اور زائد رقم رکھنا بھی جائز ہے۔ لیکن کمپنی ان چیزوں کے بدلے میں جو سہولیات فراہم کر دے اور وہ غلطی یا جان بوجھ کر استعمال کر لی جائیں تو انھیں دوبارہ کمپنی کو لوٹانا ضروری ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جتنی مالیت کی سہولیات استعمال کر لی گئی ہیں اتنی مالیت کے برابر کمپنی کا کارڈ خرید کر اسے ضائع کر دیا جائے۔
(الف) وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام. (رد المحتار،کتاب البيوع، مطلب کل قرض جر نفعا حرام)
(ب) ولا يجوز قرض جر نفعا. (البحر الرائق،کتاب البيع، فصل في بيان التصرف في المبيع...)
(ج) في الرد عن الكسب الخبيث: ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ.
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر:3925