Menu

Fatawaa

ماركیٹنگ كى غرض سے تحائف وغیرہ دینا

Jan 08 2021

مىرے شوہر pharma (دواء سازكمپنى) مىں ماركىٹنگ پروڈكٹ مىنىجر ہىں، جو ڈاكٹرز كے لىے كمپنى كى طرف سے پروڈكٹ كى سىل بڑھانے كے لىےكمپنى events (تقرىبات) اور ان كے لىے تحائف وغىرہ كا بھى بندوبست كرتے ہىں، تو كىا ىہ تحائف وغىرہ دىنا رشوت ہے؟ كىا ماركىٹنگ كى نوكرى كرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللّہ خیرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
تحائف دینے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ ایسے معمولی تحائف (مثلاً ڈائیری، کیلینڈر، بال پین، وال کلاک وغیرہ) جو ہر کسی کو دیے جاتے ہیں اوران سے مقصود اپنی پروڈکٹ کی تشہیر ىا سىل پڑھانا ہے، نہ کہ کوئی رشوت وغیرہ کہ جن کے دینے کی وجہ سے آدمی اخلاقی طور پر اس  مخصوص کمپنی كى پروڈكٹ كو تجوىز كرنے پر مجبور نہ ہو درست ہے۔ لیکن اس کے برعکس  اىسے تحائف (مثلاً موبائل فون، اے سی(A.C) ، گاڑی وغیرہ دىنا) کہ جن کے دینے کی وجہ سے ایک باختیار آدمی اخلاقی دباؤ میں آکر مخصوص کمپنی كى پروڈكٹ تجوىز  كرنے پر مجبور ہوجائے درست نہىں ،اس سےاجتناب كرنا لازمى ہے ۔
لہذا مذكورہ صورت مىں  آپ كے شوہر جس دوا ساز كمپنى كے نمائندہ كے طورپر ادوىات متعارف كروانےىا سىل پڑھانے كى غرض سے ڈاكٹر حضرات سے ملتے ہىں جس مىں ان كى كمپنى كى ادوىات مرىضوں كے لىے زىادہ مفىد اور كم قىمت مىں دستىاب ہوسكتى ہىں، تو بغىر كسى شرط كے ڈاكٹرز كا مخصوص وقت دىنے كى وجہ سے ان كوشكرىہ كے طورپر تحائف وغىرہ دىنے ىا كمپنى كى تقرىبات مىں ان كو مدعوكرنے مىں كوئى حرج نہىں، اس  طرح  دىا گىا تحفہ بھى وصول كرنےمىں كوئى ممانعت نہىں۔ لىكن اگر ان ڈاكٹرز حضرات سے ملنا اس غرض سے ہو كہ مرىضوں كو اسى كمپنى كى ادوىات تجوىز كى جائىں گى تاكہ كمپنى كى سىل بڑھ جائے۔ چاہے دوسرى كمپنىوں كى ادوىات ان سے زىادہ بہتر اور كم دام مىں دستىاب ہوں اور اسى سلسلہ مىں  تحائف  دىنا اور لىنا ىا اس طرح كى دىگر سہولىات كے ساتھ مشروط ہو تواىسا كرنا رشوت كے زمرہ مىں آتا ہے، اس سے اجتناب كرنا لازمى ہے۔ اسى طرح غىر شرعى ىا غىر قانونى امور كى انجام دہى كے لىے دىئے گئے تحائف وصول كرنا بھى ممنوع ہے۔ نىز ماركىٹنگ كى نوكرى كرنا جائز ہے بشرطىكہ اس مىں رشوت لىنے دىنےىا كسى بھى غىر شرعى كام مىں براہ راست معاونت نہ ہوتى ہو۔
عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي. هذا حديث حسن صحيح. (سنن الترمذي ت بشار (۳/ ۱۶)
الرشوة في اللغة إدلاء الدلو في البير، وقال فقهاؤنا: يجوز إعطاء الرشوة إذا كان مظلوماً، وإن كان ظالماً أو كان له غرض فاسد فلا يجوز، والراشي المعطي، والمرتشي الآخذ، ووقع في بعض كتب اللغة حديث: «لعن الله الراشي والمرتشي والرائش» إلخ، والرائش الوكيل بين الراشي والمرتشي. (العرف الشذي شرح سنن الترمذي (۳/ ۷۲)
الهدية مال يعطيه ولا يكون معه شرط والرشوة مال يعطيه بشرط أن يعينه كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية (۳/۳۳۰)
وذكر الأقطع أن الفرق بين الهدية والرشوة أن الرشوة ما يعطيه بشرط أن يعينه والهدية لا شرط معها اهـ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق (۶/۲۸۵)
وروى الخصاف من حديث أبي هريرة - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «لعن الله الراشي والمرتشي، والرائش ملعون، والراشي المعطي، والمرتشي الآخذ، والرائش الذي يسعى بينهما ليسوي أمره».(البناية شرح الهداية (۹/ ۹)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4578