Menu

Fatawaa

اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسى لینا

Dec 29 2020

تقرىبا بىس سال پہلے مىں نے اسٹىٹ لائف انشورنس كى پالىسى لى، لىنے كى وجہ ىہ تھى كہ مىرى پرائىوٹ نوكرى تھى، جس مىں كو ئى پىنشن ىا گرىجوٹى نہىں تھى، تو مىرا خىال ىہ تھا كہ وقت كے ساتھ ساتھ بچت ہوتى رہے گى اور آخر مىں اىك بڑى رقم بن جائے گى، تو استعمال مىں آجائے گى۔
اور اسٹىٹ لائف كى پالىسى لىتے وقت مىں نے اس كے بارے مىں معلومات لى تھى، تو مىرا علم ىہ تھا كہ اگر اس مىں فكس منافع ہو تو سود ہوتا ہے، ورنہ نہىں، اور اس وقت وہ فكس نہىں تھا، بلكہ متغىر تھا، اور نہ مىں نے ان كو قرض دىا، بلكہ پىسے كاروبار مىں انوىسٹ كے لىے دىے، كىا ىہ ركھنا صحىح ہے، ىا اس کو ختم كردىنا چاہىے، اگر رخصت كى كوئى صورت ہوجائے تو اچھى بات ہے۔
الجواب باسم ملهم الصواب
محض منافع كى شرح مقرر ہوجانے سے كسى كاروبار كا جواز ثابت نہىں ہوتا، بلكہ كاروبار كے جائز ہونے كے لىے كچھ اور بھى شرعى قواعد اور تقاضے ہوتے ہىں، جن كا پورا كرنا ضرورى ہوتا ہے، اور مروجہ انشورنس مىں ان كى رعاىت نہىں ركھى جاتى، كىونكہ انشورنس كمپنى كى طرف سے انشورنس كرانے والے كو بعض خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات كى تلافى كى ىقىن دہانى  كرائى جاتى ہے، اوركمپنى اس سے اىك متعىنہ رقم قسط وار وصول كرتى ہے، اور اىك معىنہ مدت كے بعد اسے ىا اس كے پسماندگان كو حسبِ شرائط واپس كرتى ہے، اگر چہ كمپنى یہ کہتى ہو کہ یہ مضاربہ وغىرہ ہے، اور آپ کی رقم ہم اپنے كاروبار مىں لگاتے ہیں اور اس کا نفع آپ کو دیتے ہیں، مگر حقیقت میں اُن سے کیا گیا معاہدہ  شرعاً نہ مضاربہ ہوتا ہے، نہ اجارہ، بلکہ قرض، سود اور جوئے پر مبنی معاملہ طے کیا جاتا ہے، اور كمپنى فىصد كے حساب سے مزىد كچھ رقم بطورِ سود دىتى ہے، جس کی شرعاً کوئی اجازت نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ مىں آپ کے لئے اسٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسی لینا جائز نہیں تھا، لیکن لاعلمی میں آپ نے لے لی، اب آپ کے لىے حکم یہ ہے کہ معاملے کوختم کردیں۔ اس صورت میں کمپنی سے جو رقم وصول ہو، اس میں سے آپ کی جمع کردہ رقم کا استعمال آپ کے لیے حلال ہے، اس سے زائد رقم کا استعمال حلال نہیں، بلکہ زائد رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردینا لازم ہے۔
باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة، وشرعا: (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة. فكلها من الربا فيجب رد عين الربا قائما لا رد ضمانه، لانه يملك بالقبض. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،ص:۴۳۰)
(كل قرض جر نفعًا حرام)أي: إذا كان مشرطًا كماعلم مما نقله عن بحر، وعن الخلاصة، وفي الذخيرة:وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي لابـأس... ثم رأيت في جواهر الفتاوى!إذا كان مشروطًا صار قرضًا فيه منفعة وهو ربا، وإلا فلابأس به.(ردالمحتار، ٧/٤١٣) 
عن أبي هريرة رضى اللہ عنہ، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر، وعن بيع الحصاة(سنن ابن ماجه (۲/ ۷۳۹) 
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه(رد المحتار ،۵/۹۹)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4604