Menu

Fatawaa

بوہری لڑکے سے نکاح

کیا ایک سنی مسلمان لڑکی کا نکاح بوہری شیعہ لڑکے سے کیا جا سکتا ہے یا کرنا جائز ہے یا حرام ہے؟ اگر انجانے میں ایسا ہو چکا ہو تو اس سے ہونے والی اولاد کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ مہربانی ہوگی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

خواتین کے لیے بال کٹوانا

Sep 24 2020
3
0
اس سوال کا کثرت سے سامنا رہتا ہے کہ خواتین کے بال کٹوانے کے حوالہ سے احناف کے مفتی بہ قول کی نقلی دلیل کیا ہے؟ اگرچہ کوشش رہتی ہے کہ تقلید کی عافیت کو بیان کیا جائے مگر بعض اوقات بات کی وضاحت درکار ہوتی ہے۔ تو از راہ کرم اس موضوع کی نقلی دلیل کی طرف رہنمائی فرما دیجیے۔

سڑکوں پر گندے نالوں کا بہنے والا پانی

Sep 24 2020
3
0
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اکثر اوقات موٹر سائیکل میں سفر کرتا رہتا ہوں اور سڑکوں پر نالوں کا گندہ پانی بہتا رہتا ہے تو اس کےچھینٹے کپڑوں پر لگ جاتے ہیں، دورانِ سفر اضافی کپڑے میسر نہیں ہوتے تو ایسی حالت میں نماز بھی پڑھنی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کپڑے پاک ہو ں گے یا نہیں اور نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو پاک کرنے کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ 

ایک خاتون کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اور علیحدگی کی تحقیق

میں نے سنا ہے کہ ایک غیر مسلم مؤرخ نے لکھا ہے کہ ایک خاتون کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہوا، لیکن رات کو اس خاتون نے آپ علیہ السلام کو دیکھتے ہی أعوذ بالله من الشيطن الرجيم پڑھا اور علیحدہ ہوگئی۔ ایسا واقعہ ہم نے تو سیرت میں نہیں پڑھا، آپ کو اگر اس بارے میں کچھ معلوم ہو تو رہنمائی فرمائیں کیا یہ بات درست ہے؟

لڑکی یا لڑکی والوں کی طرف سے پیغام نکاح بھیجنا

ایک پوسٹ موصول ہوئی جسے ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ صحیح ہے؟ 
’’کیا خاتون یا خاتون کے سرپرست کی طرف سے پیغام نکاح قابلِ شرم فعل ہے؟ ہمارے ہاں خاتون یا خاتون کے سرپرست کی جانب سے پیغامِ نکاح بھیجنا معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت انس کی بیٹی بولی (کم بخت) کیا بے شرم عورت تھی، ارے تھو، ارے تھو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت تجھ سے بہتر تھی۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں خود اپنے آپ کو پیش کیا۔ (بخاری) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہِ راست پیغامِ نکاح دینا حیا کے منافی نہیں ہے بلکہ شرف حاصل کرنے کا جذبہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استنباط کیا ہے کہ ایک عورت کسی صالح شخص کو اس کی نیکی کی وجہ سے پیغامِ نکاح دے سکتی ہے۔اسلام کا عمومی اصول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بتلایا ہے کہ لا نکاح الا بولی ’’نکاح ولی کے ذریعے ہوتا ہے‘‘۔ اس طرح کے نادر واقعات سے ایسی صورت میں جب ولی نہ ہو یا عورت خود جرأت کرکے پیغامِ نکاح دے سکتی ہو، اس کا جواز نکلتا ہے، جبکہ بنیاد دین دار شوہر کی طلب ہو۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی ایک بیوہ خاتون تھیں، انھوں نے بھی آپ کو پیغامِ نکاح بھجوایا تھا۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں ان کے خاوند خنیس بن خدافہ جو آنحضرت کے اصحاب میں سے تھے، جنگ اُحد میں زخمی ہوئے تھے اور بعد میں شہید ہوگئےتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت حفصہ سے نکاح کے لیے کہامگر انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا (بخاری )۔یہ ایک طویل واقعے کا اقتباس ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاتون یا خاتون کے سرپرست کا اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے پیغام نکاح میں پہل کرنا کوئی قابل اعتراض اور قابلِ شرم بات نہیں ہے، جس طرح بلاوجہ ہمارے معاشرے میں اس بات کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ خیال رہے کہ اسلامی حدود کی پامالی اور بے حیائی کا کوئی پہلو اس میں شامل نہ ہو۔‘‘


ایک صحابیہ کے طلاق مانگنے کے واقعہ کی تصدیق

Sep 24 2020
29
0
صحیح مسلم حدیث نمبر 1959 کے حوالے سے ایک صحابیہ کے طلاق مانگنے کا واقعہ موصول ہوا ہے، آپ سے اس واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے۔ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمادیں:
ایک صحابی رسول رات کو اپنے گھر میں آرام فرماتھے، انہیں پیاس لگی تو انہوں نے اہلیہ سے پانی مانگا، ان کی اہلیہ صحابیہ عورت تھی وہ پانی لے کرآئی تو وہ صحابی دوبارہ سو چکے تھے وہ عورت اتنی خدمت گزار تھی کہ پانی لے کر کھڑی ہوگئی، جب رات کا کافی حصہ گزر گیا تو صحابی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی وفادار بیوی پانی لے کر کھڑی ہے، پوچھا: تم کب سے کھڑی ہو؟ اس صحابیہ عورت نے جواب دیا کہ جب آپ نے پانی مانگا تھا میں پانی لے کر آئی تو آپ آرام فرماچکے تھے اس لیے میں نے آپ کو جگاکر آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور سونا بھی گوارا نہ کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے پھر آپ کی آنکھ کھلے اور آپ کو پانی کی طلب ہو اور کوئی پانی دینے والا نہ ہو، کہیں خدمت گزاری اور وفا شعاری میں کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے میں ساری رات پانی لے کر کھڑی رہی۔ جب اس عورت نے یہ کہا کہ میں ساری رات کھڑی رہی تو اس صحابی کی حیرت کی انتہانہ رہی وہ فوراًاٹھ کر بیٹھ گئے اور عجیب خوشی کی کیفیت میں اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ تم نے خدمت کی انتہا کردی، اب میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ آج تم مجھ سے جو مانگو گی میں دوں گا، صحابیہ نے کہا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم راضی اور خوش رہو، لیکن جب صحابی نے بار بار اصرار کیا تو عورت نے کہا اگر ضرور میرا مطالبہ پورا کرنا ہے تو مہربانی کرکے مجھے طلاق دے دو، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اس صحابی کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو، وہ ہکے بکے اور حیران رہ کر اپنی بیوی کا منہ دیکھنے لگے کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔اس نے کہا اتنی خدمت گزار بیوی آج مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہو، اس نے کہا چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے تیرا مطالبہ تو پورا کروں گا لیکن پہلے چلتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، آپ سے مشورہ کے بعد جو فیصلہ ہوگا اسی پر عمل کروں گا۔ چنانچہ صبح صادق کا وقت ہوچکا تھا یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر سے نکل کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کی طرف روانہ ہوگئے، راستے میں ایک گڑھے میں صحابی کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے، اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر صحابی کو اٹھایا اور کہا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی، صحابی نے کہا: اور تو کچھ نہیں البتہ پاؤں میں تکلیف ہے۔ صحابیہ عورت نے فرمایا: چلو واپس گھر چلیں، صحابی نے کہا اب تو قریب آچکے ہیں، صحابیہ کہنے لگیں، نہیں واپس چلو، چنانچہ جب واپس گھر آئے تو صحابی نے پوچھا کہ مجھے توسمجھ نہیں آئی کہ ساراماجرا کیا ہے، صحابیہ نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ جسے ساری زندگی میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے ایمان میں شک ہے کیونکہ جو بھی ایمان دار ہوتا ہے وہ ضرور تکلیف میں آزمایا جاتا ہے، مجھے تو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ۱۵ سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آپ کو کبھی سر میں بھی درد نہیں ہوا، اس لیے مجھے شک ہوگیا اور میں نے سوچا کہ ایسے آدمی کے نکاح میں رہنے کاکیا فائدہ ہے جس کا ایمان مشکوک ہے، اس لیے میں نے طلاق مانگی لیکن جب راستے میں آپ کے پاؤں میں چوٹ آئی تو میرا شک رفع ہوگیا کہ الحمد للہ آپ تکلیف میں آزمائے گئے اور آپ نے اس تکلیف پر صبر کیا۔ 


تشہد سے متعلق واقعہ کی تحقیق

Sep 24 2020
16
0
 درج ذیل سوال وجواب کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا یہ درست ہے؟ 
سوال: اس قصے کی کیا حقیقت ہے کہ "التحیات" کا لفظ اس وقت استعمال کیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کےلیے آسمان پر تشریف لے گئے اور جس وقت آپ سدرۃ المنتہی پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ والطَّيِّبَاتُ"۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" پھر فرشتوں نے کہا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" یہ قصہ اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو "التحیات" یاد کروانے کیلیے بتلایا جاتا ہے۔
جواب: اس واقعے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ کوئی سند ہے، ہمیں ثابت شدہ احادیث میں اس سے متعلق کوئی نام و نشان نہیں ملا، لیکن واقعۂِ معراج مکمل تفصیلات کےساتھ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتابوں میں ثابت شدہ ہے، اس کے با وجود نماز کے تشہد سے متعلق ایسی کوئی بات ان میں ذکر نہیں کی گئی، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ تشہد صحابہ کرام کو سکھایا تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں۔ چنانچہ صحیح بخاری: (6328) اور مسلم: (402) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ  "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کہا کرتے تھے: اللہ تعالی پر سلامتی ہو، فلاں پر بھی سلامتی ہو،  تو ایک بار ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالی تو بذاتِ خود ہی سلامتی ہے، اس لیے جب بھی کوئی تشہد میں بیٹھے تو یوں کہا کرے: (اَلتَّحِيَّاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) [تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کےلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی ، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں]  (جب ایسے کہے گا تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں تک  نمازی کی دعا پہنچ جائے گی، یہ کہنے کے بعد جو مانگنا چاہے سو مانگ لے)" 
ہمیں زیادہ سے زیادہ اس واقعہ کے بارے میں (سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ) نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے تم پر  سلامتی ہو آیت کے تحت چند تفسیر کی کتابوں میں یہ بات ملی ہے کہ:
"مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے اشارہ ہے اللہ تعالی کے اس سلام کی طرف جو شب معراج کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر اللہ تعالی نے فرمایا تھا: "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" [اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں] تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلام کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا تھا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" [ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو]" انتہی (روح  از علامہ آلوسی" (3/38))
 اسی طرح چند شارحینِ حدیث  نے تشہد کی دعا ذکر کرتے ہوئے جو شرح   کی ہے  وہاں اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی  نے "شرح سنن ابو داود" (4/238)  میں ذکر کی ہے، نیز ملا علی قاری نے اسے "مرقاۃالمفاتیح" میں ابن الملک سے نقل کیا ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ کچھ فقہ کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہےمثال کے طور پر "تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق" (1/121) اسی طرح قسطلانی اور شعرانی جیسے صوفیوں کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔ لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کو سند کے ساتھ ذکر نہیں کیا، اس لیے اس واقعہ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا درست نہیں ہے، بالکل اسی طرح یہ واقعہ بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی تمام احادیث کو بیان کرنا حرام ہے، صرف ایک صورت میں بیان کرنا جائز ہے جب ان احادیث کی حقیقت عیاں کرنا مقصود ہو اور ان سے لوگوں کو خبردار کرنا  ہو۔


مسئلہ طلاق

جناب میرے ایک جاننے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے یہ موبائل استعمال کیا یا اس کو چھوا  تو تمہیں تین طلاق ہے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے وہ موبائل کسی اور کو بیچ دیا، پھر اس کے کہنے کے تقریبا پانچ سے چھ ماہ بعد وہ شخص، جس کو موبائل بیچا گیا تھا، اس کے گھر ملنے آیا تو اس کی بیوی نے یہ جانے بغیر کہ یہ وہی موبائل ہے، اس کو چھو لیا، تو اب کیا تین طلاق واقع ہوں گی یا نہیں؟


قرب فتنہ دجال والی حدیث کی وضاحت

 درج ذیل حدیث کی کچھ تشریح عنایت فرمائیں اس کا کیا مطلب ہےکہ قبروں میں فتنہ دجال کے پاس آزمائے جاؤ گے؟ کیا قبر کا عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو فتنہ دجال کے آس پاس مریں گے یا تمام مرے ہوئے لوگوں پر اس زمانے میں عذاب ہوگا یا یہ کوئی اور ہی فتنہ ہے جس کا یہاں علم دیا جا رہا ہے؟

عَن أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَقول قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ خَطِيبًا فَذكر فتْنَة الْقَبْر التِي يفتتن فِيهَا الْمَرْءُ فَلَما ذَكَرَ ذَلِكَ ضَج الْمُسْلِمُونَ ضَجةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هَكَذَا وَزَادَ النسَائِيُّ: حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فلما سَكَنَتْ ضَجتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ: «قَدْ أُوحِيَ إِلَي أَنكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا من فتْنَة الدجال» رواه البخاری (1373) و النسائی (103 ، 104) 

ترجمہ: ’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فتنہ قبر کا ذکر فرمایا جس میں آدمی کو آزمایا جائے گا، پس جب آپ ﷺ نے اس کا ذکر فرمایا تو مسلمان زور سے رونے لگے۔‘‘

 امام نسائی نے اضافہ نقل کیا ہےکہ یہ رونا میرے اور رسول اللہ ﷺ کا کلام سمجھنے کے مابین حائل ہو گیا، جب ان کا یہ رونا اور شور تھما تو میں نے اپنے پاس والے ایک آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کلام کے آخر میں کیا فرمایا؟ اس نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ تم قبروں میں فتنہ دجال کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے۔‘‘ 


عورت کے اعتکاف کا مسئلہ

Sep 24 2020
1
0
 میں نے 2019 میں اعتکاف کیا، میں مسجد میں اعتکاف کرنا چاہتی تھی لیکن گھر سے اجازت نہیں ملی اور گھر میں اعتکاف کیا، اس وقت میں اہل الحدیث کو follow کر رہی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ عورت کا اعتکاف بھی مسجد میں ہے، میرا خیال تھا کہ کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے گھر میں کرلوں، اور اس سال حج کا ارادہ تھا اور والد صاحب نے کہا اگر حج کے سلسلہ کے لئے نکلنا پڑے تو پہلے نیت کرتے وقت ہی شامل کر لیں، اور میں نے ایسے ہی نیت کی۔ کیا یہ اعتکاف مسنون ہے یا نفلی؟ مجھے اعتکاف کے مسائل کا علم نہیں تھا، دوران اعتکاف میں مغرب کے وقت کلی کے لئے washroom چلی جاتی اکثر، ایک روز فجر کے بعد قضاء حاجت کے بعد نیند میں محسوس ہوا کہ شاید پیشاب کے قطرے شلوار پر لگے ہیں، ممکن ہے وہ پہلے سے گیلی ہو، وہم ہوا ناپاکی کا، میں نے غسل کرلیا۔ اس سال معلوم ہوا کہ جو میں کلی کرنے کے لئے نکل جاتی تھی اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اور مجھے قضاء کرنی ہے، اب مجھے نہیں معلوم تھا کتنے دن کی قضاء ہے؟ تو اس سال میں نے اعتکاف کی نیت کی اور اس نیت میں شامل کیا کہ پچھلے سال میری قضاء پہلے ادا ہو ۔ دوپہر میں اعتکاف کے پہلے دن مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوا، جو میری ناقص عقل کو سمجھ آیا کہ مسنون اعتکاف میں نیت یہ نہیں ہوسکتی، اور قضاء صرف ایک دن کی کرنی ہوگی اگر اعتکاف ٹوٹ گیا ہے۔ تو میں نے دعا کی یا اللہ اس اعتکاف میں، میں مسنون کی نیت کرتی ہوں اور قضاء کا مسئلہ میں رمضان کے بعد معلوم کر کے ادا کروں گی ان شاء اللہ۔
براہ کرم اب مجھے بتائیں کہ میرا پچھلا اعتکاف کون سا تھا؟ اور اس سال کون سا؟ مسنون یا نفلی؟ اور اب مجھے قضاء کتنے دن کی کرنی ہے؟ اگر بہتری اس میں ہے کہ قضاء کروں تو کتنے دن کی کروں؟ تاکہ میرا دل مطمئن ہو۔