Menu

Fatawaa

استخارہ کے مطابق عمل کرنا

Sep 30 2020

اگر کوئی شخص کسی معاملے میں استخارہ کرتا ہے، جس میں مثبت صورت حال سامنے آتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ شخص اپنی مرضی سے کوئی اور کام کرے تو اس کا کیا حکم ہے اور اس طرح کرنے سے کیا ہوتا ہے؟
الجواب باسم ملهم الصواب
کسی جائز کام کے بارے میں دل میں تردد پیدا ہوجائے کہ میرے حق میں بہتر ہے یا نہیں تو کام شروع کرنے سے پہلے دو رکعت استخارہ کی نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے دعاء کرنا مسنون ہے۔ اس کےلیے کسی خواب کا آنا یا غیبی اشارہ ملنا ضروری نہیں، بلکہ اس کے بعد جس جانب بھی دل کا رجحان ہوجائے اس پر عمل کرلیا جائے تو یہ جائز ہے، اس میں ان شاء اللہ خیر ہوگی۔ 
وفي شرح الشرعة: المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام على طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور، فإن رأى منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير، وإن رأى فيه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب اهـ. الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 2/ 27)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4517