دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر۱: بعض اوقات شدید تھکاوٹ یا نیند کا معاملہ ہوتا اور عین اس وقت نماز کا وقت ہو جاتا ہے ایسی حالت میں نماز ادا کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے کیا اس حالت میں ہم نماز قضا کر کے پڑھ سکتے ہیں؟
سوال نمبر۲: دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات درست ہے جو رزق انسان کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اسے اتنا ہی ملے گا چاہے اب انسان آٹھ گھنٹے کام کرے یا چوبیس گھنٹے کام کرے، انسان کا جو رزق لکھ دیا گیا اس سے زیادہ نہیں مل سکتا اسے تفصیل سے بیان کردیجیے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
تین بھائی ایک ساتھ عمرہ کےلیے گئے تو کیا وہ ایک دوسرے کا حلق کرسکتے ہیں؟ اور کیا کوئی شخص خود اپنا حلق کرسکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عزیز نے کچھ سالوں قبل تفسیر کا ایک مکمل سیٹ عنایت کیا تھا۔ کیا اس کو فروخت کیا جا سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک عورت حالت طہر میں تھی کہ نماز عشاء کا وقت داخل ہو گیا لیکن اس نے نماز ادا کرنے میں تاخیر کی تو عورت کا حیض شروع ہو گیا اب اس نماز کی قضا کرنا ہو گی یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا مسجد کے پیسوں سے مسجد میں کفن اور چارپائی لاکر رکھ سکتے ہیں کہ بعد میں میت والوں سے لے لیے جائیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
میرا چھوٹا بھائی جو بالغ ہے اور یونیورسٹی میں پڑھائی کررہا ہے، اس کے پاس اپنی کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے اگرچہ وہ نوکری تلاش کررہاہے۔ اس کی پڑھائی کا اور کھانے پینے کا خرچہ ماں باپ اٹھاتے ہیں، لیکن والدین کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ وہ اس کے ذاتی خرچوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ ذاتی خرچے جیسے سواری، موبائل بیلنس، کپڑے، جوتے اور اسی طرح کے ذاتی خرچے۔ میں اس کا بڑا بھائی اور میں ہر سال اپنے مال میں سے زکوٰۃ بھی نکالتا ہوں۔ میرا سوال ہے کہ کیا میں اس کا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے اس کے ذاتی خرچوں کو اپنی زکوٰۃ میں سے ادا کرسکتا ہوں؟ یہ بھی واضح رہے کہ اس کی ذاتی خرچوں میں کچھ ایسی بھی چیزیں ہیں جو غیر ضروری ہوتی ہیں، جیسے سپورٹس آئٹمز، لیپ ٹاپ، جم فیس اور دوسرے لگژری آئٹمز۔ برائے مہربانی اس مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
سوال نمبر1: حیدر آباد میں یہ ٹرینڈ چل رہا ہے کہ جب مکان کرائے پر اس طرح لے رہے ہیں کہ اس کو ایڈوانس دے دیے، ایک لاکھ، دو لاکھ یا دس لاکھ، جتنے بھی دینے ہیں، اب وہ کرایہ نہیں دے گا، بلکہ صرف بجلی پانی کے بل وغیرہ بھرے گا، یعنی ایڈوانس اتنا زیادہ دے دیا کہ اب کرایہ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کیا یہ معاملہ درست ہے؟
سوال نمبر2: اگر کسی کی کوئی فیکٹری یا دوکان ہو اور اس کو کچھ رقم کی ضرورت ہو یا نہ بھی ہو اور اسے کوئی رشتے دار وغیرہ رقم دے دے کہ اسے اپنے بزنس میں لگالو اور اس کے بدلے مجھے نوکری پر رکھ لو اور تنخواہ مجھے زیادہ دینا۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟
واضح رہے کہ نوکری کے بدلے جو رقم ادا کی جارہی ہے وہ رقم قرض ہوتی ہے جو بعد میں واپس ادا کی جاتی ہے۔
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
کیا ivf اور iui کے طریقہ کار سے اولاد لینا جائز ہے؟ جیسے ہم مثال کے طور پر حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ پروسیجر نہیں کیے اور صبر کیا، اگرچہ پھر زکریا علیہ السلام کی اولاد تو ہوگئی۔ لہذا انبیاء کی صورت میں ایسا کرنا صحیح نہیں تھا تو کیا موجودہ وقت میں اگر ہم یہ کریں تو جائز ہوگا یا نہیں؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
ایک دو منزلہ مکان جس کے کاغذات مجموعہ مکان پر مشتمل ہوں، اس کی دونوں منزلیں علیحدہ علیحدہ بیچی جاسکتی ہیں؟ اور کیا مشتری ایک منزل فوری خرید کر دوسری منزل کو اجارے پر حاصل کر کے مستقبل میں رقم کی دستیابی کی صورت میں یہ دوسری منزل بھی خرید سکتا ہے؟ اور کیا پہلی منزل آج کی مارکیٹ ویلیو پر اور دوسری منزل وقت بیع کے مارکیٹ ریٹ پر خرید سکتا ہے؟
دارالافتاء والارشاد - يسئلونك
آن لائن ڈراپ شپنگ کے بارے میں رہنمائی کردیں کہ کیا شرعی طور پر یہ حلال کاروبار ہے؟
آن لائن ڈراپ شپنگ بزنس میں مال قبضے میں نہیں لیا جاتا اور پروڈکٹ کی ویب سائٹ پر ساری معلومات دی جاتی ہیں اور جب آرڈر آتا ہے تو مینوفیکچرر سے رابطہ کر کے وہ پروڈکٹ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا ایک مڈل مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں تین باتیں بہت اہم ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ مال قبضے میں نہیں ہوتا۔
2۔ جب آرڈر آتا ہے تو پروڈکٹ خریدنے کے بعد مینوفیکچرر کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پروڈکٹ خریدار کے پتے پر بھیج دے۔
3۔ آرڈر ملنے سے پہلے مینوفیکچرر کے ساتھ ڈراپ شپنگ ایجنٹ کا یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ مینوفیکچرر کی پروڈکٹ پرافٹ رکھ کر آگے سیل کرے گا، یعنی جو بھی قیمت مینوفیکچرر نے بتائی ہے اس پر پرافٹ رکھ کر ڈراپ شپنگ ایجنٹ پروڈکٹ کو قبضے میں لیے بغیر اگر خریدار کو سیل کرتا ہے، پھر جو آرڈر آتا ہے تو ڈراپ شپر پروڈکٹ خرید کر مینوفیکچرر کے ذریعے وہ پروڈکٹ ڈیلیور کرتا ہے۔ یہ بات مینوفیکچرر کو پتا ہوتی ہے مگر خریدار سے یہ بات چھپی ہوتی ہے۔
کیا یہ بزنس شرعی طور پر حلال ہے؟ کیوں کہ اس کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔